LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سفیر سید حیدر شاہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو اسناد سفارت پیش کر دیں امریکی پیغامات سے ثابت ہوا حالیہ جنگ میں واشنگٹن نے ایرانی فتح تسلیم کر لی: محمد رضا عارف امریکا ایران کیخلاف جنگ کے ذریعے عالمی معیشت میں خلل ڈال رہا ہے: علی باقری کنی ایران نے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا امکان مسترد کر دیا آبنائے ہرمز بحران: ترک صدر کا متبادل تجارتی راستے بنانے پر زور ڈی آئی خان: شہریوں کے تحفظ کیلئے جدید ایس او ایس ایمرجنسی سسٹم متعارف مریم نواز کا چودھری سالک کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوانے کا اعلان چائلڈ پورنوگرافی اور کم عمر بچوں کو بلیک میل کرنے کے الزام میں دو ملزم گرفتار پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کیلئے ڈاکٹر عشرت نے انقلابی اقدامات کیے: وزیر خزانہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، سپاہی شہید نیویارک میں انتخابات کے دوران تکنیکی خرابی، 7 لاکھ ووٹرز مشکلات کا شکار جھوٹے الزام لگانا عاجزی اور جواب دینا تکبر ہے؟ مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین پر پلٹ وار امریکا سال کے آخر میں اسرائیل کی مالی امداد بند کر دے گا: ٹرمپ امریکی تاریخ میں پہلی بار تمام 50 ریاستوں میں انتخابی مبصرین تعینات انتخابی اصلاحات کی کمیٹی میں اتحادیوں کی نمائندگی کا معاملہ حکومت کیلئے چیلنج بن گیا

ملک میں بلاک چین ٹیکنالوجی سے سرمایہ کاری کےمواقع پیدا ہو سکتے ہیں: بلال بن ثاقب

Web Desk

2 November 2026

وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے ملک میں سرمایہ کاری کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ’ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری‘ کے مستقبل کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں اپنا نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مالیاتی جدت اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی ہمارے مالیاتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، اور ترسیلاتِ زر کی لاگت میں صرف 2 سے 3 فیصد کمی لانے سے ہی ملکی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا اضافی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

وزیرِ مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان اب محض جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والا ملک نہیں رہا بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل میں بھی اپنا فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے امکانات صرف بٹ کوائن یا کرپٹو کرنسی کی محدود تجارت تک ہرگز محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ بلال بن ثاقب نے بتایا کہ پاکستان کو سالانہ تقریباً 41 ارب ڈالر کی خطیر ترسیلاتِ زر موصول ہوتی ہیں، جن کی منتقلی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، اور اسی مقصد کے لیے ’پیوارا‘ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔