LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب

Web Desk

27 October 2026

امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا خطے کے لیے ایک ناسور بن چکی ہے، اور اس فتنہ پرور گروہ کو شکست دینے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو متحد ہو کر ایک مؤثر عالمی اتحاد تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے۔

معروف امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ میں ایک تفصیلی مضمون لکھتے ہوئے سعودی سفیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حوثی باغیوں کا یہ مسلح گروہ اب صرف یمن کی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پھیلتے ہوئے بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا دہشت گرد خطرہ بن چکا ہے۔ شہزادی ریما بنت بندر نے عالمی برادری کو پرزور انداز میں یاد دلایا کہ جس طرح دنیا نے پوری یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے داعش جیسی خطرناک تنظیم کو شکست دی تھی، بالکل اسی طرح اب عالمی سطح پر حوثی ملیشیا کا بھی آہنی ہاتھوں سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے اور دنیا کو ان کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔