LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تھیم پارک اسلام آباد میں بنے گا ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستانی ڈیری سیکٹر میں اہم پیشرفت کراچی: بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی کے ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات ملک میں جیٹ فیول، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کا تیل بھی مہنگا کردیا گیا پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا، حفاظت کر رہا ہے: فاروق عبداللہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی پر اسرائیلی حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی سعودی عرب میں دو بیلسٹک میزائل حملے ناکام، ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی کور کمیٹی کو غیر مؤثر بنانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، حتمی اختیار بانی عمران خان کے پاس ہے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا وفاق کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنا ہوگا: گورنر ایران کا بندر عباس کے قریب ایک اور امریکی ساختہ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے: رانا سکندر حیات ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا ناقابل تصور جواب دیں گے: باقر قالیباف جنگ بندی کیلئے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری ہے، عباس عراقچی

کراچی: بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی کے ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات

Web Desk

26 October 2026

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی اور بلیک میلنگ میں ملوث گروہ کی گرفتاری کے بعد تفتیش کے دوران مزید سنسنی خیز اور اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

قومی سینٹر برائے کرائم اینڈ سائبر انٹیلی جنس (NCCIA) کے مطابق دو روز قبل کی گئی کارروائی کے دوران 42 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے 13 بنیادی ملزمان کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس پورے نیٹ ورک اور تینوں قائم کردہ کمپنیوں کے پیچھے ایک ہی بنیادی ماسٹر مائنڈ ملوث ہے۔ ملزمان خواتین کے نام سے جعل سازی پر مبنی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر امریکا، جرمنی اور دیگر ممالک سے کلائنٹس تلاش کرتے تھے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر اور ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز نے انکشاف کیا کہ یہ گروہ کم سن بچوں اور اواتارز (Avatars) کا استعمال کر کے اینیمیٹڈ پورنوگرافک مواد اور کارٹونز تیار کرتا تھا۔ خریداروں کو ریڈی میڈ لائبریری سے کلپس فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خواہش کے مطابق کسٹمائزڈ کنٹینٹ بھی بنایا جاتا تھا۔ مواد کی فراہمی کے بعد ملزمان اپنے کلائنٹس کو بلیک میل بھی کرتے تھے۔ تفتیش میں بچوں کے ‘سپر امپوزڈ’ (Superimposed) اور جعلسازی سے تیار کردہ چہروں کے شواہد بھی ملے ہیں، جبکہ عدالت نے تمام گرفتار ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔