LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کا حل صرف سفارت کاری ہے: چین نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 2,410 دہشت گرد ہلاک اور 3,518 گرفتار: محسن نقوی کی ایوان میں رپورٹ خیبرپختونخوا پولیس کا ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام سیف سٹی سے منسلک امریکا بار بار وعدہ خلافی کرتا، سفارتکاری بارے واشنگٹن کا رویہ نامناسب ہے: ایران جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ کا حلف اٹھا لیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر حملے کا دفاع، دوبارہ بھی حملوں کا اعلان سعودی عرب نے طائف کی جانب داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیا ایران کیخلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے متجاوز ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا، رافیل گروسی برطانیہ میں آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس واقعے میں ملوث 2 افراد پر فرد جرم عائد فرانس نے سمندری نگرانی کرنے والا طیارہ عارضی طور پر رومانیہ منتقل کر دیا اسرائیل الیکشن، ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل کولمبیا کے جنوب مغربی علاقے میں حملہ، 6 افراد ہلاک برازیل نے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے امریکی الزام کو مسترد کر دیا

سینیٹ قائمہ کمیٹی نجکاری کے اجلاس میں پاور پلانٹس اور ڈسکوز کی نجکاری پر بریفنگ

Web Desk

18 December 2025

سینیٹر افنان اللہ کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاور ڈویژن کے حکام نے گدو اور نندی پور پاور پلانٹس سمیت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گدو اور نندی پور پاور پلانٹس نجکاری کے لیے تیار ہیں اور ان پلانٹس پر حکومت مزید کوئی خرچ نہیں کرے گی۔ حکام کے مطابق دونوں پاور پلانٹس کے لیے کچھ گیس کی ایلوکیشن درکار ہے۔ گدو پاور پلانٹ کو پہلے 150 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جا رہی تھی جبکہ اس وقت پلانٹ 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کر رہا ہے۔ نندی پور پاور پلانٹ اس وقت آر ایل این جی پر چل رہا ہے۔

اجلاس کے دوران کمیٹی رکن سینیٹر بلال خان نے سوال اٹھایا کہ اگر ان پاور پلانٹس کی نجکاری نہ ہو سکی تو پھر کیا ہوگا؟ جس پر پاور ڈویژن حکام نے بتایا کہ ایسی صورت میں معاملہ دوبارہ کابینہ کے سامنے لے جایا جائے گا۔ سینیٹر بلال خان نے یہ بھی سوال کیا کہ کس بنیاد پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ نجی شعبہ ان پلانٹس کو مؤثر طریقے سے چلا سکے گا۔

پاور ڈویژن حکام نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) نجکاری کے عمل میں شامل ہیں۔ پہلے مرحلے میں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کی جا رہی ہے، دوسرے مرحلے میں پیسکو اور سیپکو جبکہ تیسرے مرحلے میں لیسکو، میکو اور ہیزکو کی نجکاری کا منصوبہ ہے۔

حکام نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ترکیہ میں جب بجلی کمپنیوں کی نجکاری کی گئی تو اس وقت وہ 80 فیصد نقصان میں تھیں، تاہم نجکاری کے بعد وہ کمپنیاں اب منافع میں ہیں۔ پاور ڈویژن کے مطابق پاکستان میں بھی ڈسکوز کی نجکاری کے لیے تمام ضروری تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔