LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی افغان سرزمین کا استعمال روکنے کی ذمہ داری طالبان پرعائد ہوتی ہے: وزارت اطلاعات رحمان بابا ایکسپریس کی 14 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، 4 مسافر جاں بحق شمالی کوریا کا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کا تجربہ اردن کی حوثی حملوں کی شدید مذمت، سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعلان جرمنی میں پولینڈ کے سٹارلنک سیٹلائٹ سٹیشن کو آگ لگانے کے شبہہ میں دو ترک شہری گرفتار صدر ٹرمپ کا سعودیہ پر حملوں پر اظہار تشویش، حوثیوں کا رویہ انتہائی خراب قرار دیدیا سعودیہ میں حملوں سے متعلق تصاویر، ویڈیو بنانے کا الزام، متعدد امریکی شہری گرفتار غیر قانونی، غیر انسانی حملوں کیخلاف ترکیہ اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے: اردگان ٹرمپ انتظایہ کی روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے کوششیں تیز امریکی فوج کی کیتھولک اہلکاروں کو نڈال حسن کی سزائے موت کے عمل میں حصہ نہ لینے کی ہدایت امریکی ماہرین رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ نے معاشیات کا نوبیل انعام حاصل کر لیا شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کا 78 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ایرانی صدر کی سپریم لیڈر سے 7 گھنٹے طویل ملاقات، حکومتی مسائل بارے تبادلہ خیال

یو اے ای سپریم کورٹ نے غیر ملکی رہائشی کی ملک بدری کا حکم منسوخ کر دی

Web Desk

12 October 2026

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وفاقی سپریم کورٹ نے منشیات کے استعمال سے متعلق ایک مقدمے میں غیر ملکی رہائشی کی ملک بدری کا حکم منسوخ کرتے ہوئے ابتدائی عدالت کی جانب سے عائد کیا گیا 30 ہزار درہم کا مالی جرمانہ بحال رکھ کر اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘گلف نیوز’ کی رپورٹ کے مطابق یہ کیس ریاست عجمان کا تھا، جہاں ابتدائی عدالت نے متعلقہ شخص کو جرم ثابت ہونے پر مالی جرمانہ عائد کیا تھا، تاہم بعد میں اپیل کورٹ نے فیصلہ بدلتے ہوئے جرمانے کے بجائے ملزم کی ملک بدری کا سخت حکم جاری کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص متحدہ عرب امارات میں ہی پیدا ہوا تھا اور اپنے خاندان کے ساتھ وہیں مقیم ہے۔ اس نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ ترین عدالت یعنی وفاقی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ دفاعی وکیل عبداللہ بن حاتم نے سپریم کورٹ کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ اپیل صرف ملزم کی جانب سے دائر کی گئی تھی، اس لیے اپیل کورٹ کے پاس یہ قانوناً اختیار نہیں تھا کہ وہ سزا میں شدت پیدا کر کے ملزم کی قانونی پوزیشن کو مزید خراب کرے۔

وفاقی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اماراتی قانون کے تحت بعض حالات میں قید کی سزا کی جگہ ملک بدری کا حکم تو دیا جا سکتا ہے، لیکن مالی جرمانے کو ملک بدری سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپیل کورٹ کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ملزم کی اپیل جزوی طور پر منظور کر لی اور ملک بدری کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر 30 ہزار درہم کا اصل جرمانہ بحال کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب ملزم کو بری کرنا نہیں بلکہ صرف قانون کے مطابق سزا کو درست کرنا ہے۔ قانون دانوں کے مطابق یہ فیصلہ اپیلوں کے دائرہ کار اور اختیارات کی حدود کے لیے ایک اہم مثال بن گیا ہے، تاہم یہ ملک بدری سے متعلق تمام مقدمات کے لیے عمومی استثنا نہیں ہے۔