LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن گریم ڈوٹ کو 2 بچوں سے جنسی زیادتی کے جر م میں 7 سال قید کی سزا وزیر اعظم شہباز شریف دورہ امریکا اور برطانیہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ایران کی صورتحال بہت خراب ہے، نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ سعودی ولی عہد کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ خلیج کا بحران نہ پیدا ہوتا تو پاکستان دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح بہت آگے جا چکا ہوتا: وزیر اعظم اڈیالہ جیل میں قید بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ملاقات کرا دی گئی مراکش کے بادشاہ نے فاطمہ زہرا کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کردیا بینظیر بھٹو شہیدیونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر نے سیاسی دباؤ بڑھنے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا ایران پر حملے: یورپی یونین بھی شدید متاثر، فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بڑھ گیا سعودی ولی عہد اور امیر قطر کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال عراق سے امریکی افواج کا دو دہائیوں بعد انخلا شروع

ایران پر حملے: یورپی یونین بھی شدید متاثر، فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بڑھ گیا

Web Desk

30 September 2026

ایران پر امریکی اور اسرائیلی عسکری حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بھیانک معاشی اثرات نے اب یورپی یونین اور خود امریکہ کو اپنے شدید لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔ ایندھن کی درآمدات کے حجم میں کوئی بھی اضافہ نہ کیے جانے کے باوجود، عالمی منڈی میں قیمتیوں کے توازن بگڑنے کی وجہ سے یورپی یونین کا فیول امپورٹ بل 100 ارب یورو سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ توانائی کے اس شدید بحران کے باعث خود امریکی عوام کو بھی ایندھن کی بے تحاشا مہنگائی نے شدید پریشان کر رکھا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال امریکی شہریوں نے پیٹرول کی مد میں 74 ارب 40 کروڑ ڈالرز زائد خرچ کیے ہیں، جبکہ ڈیزل کے استعمال پر امریکی عوام کو 47 ارب 50 کروڑ ڈالرز کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، بحری تجارتی راستوں پر کشیدگی اور خام تیل کی فراہمی میں تعطل کے باعث نہ صرف امریکہ اور یورپ میں مہنگائی کی لہر شدت اختیار کر رہی ہے بلکہ عالمی معیشت بھی شدید کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔