عراق سے امریکی افواج کا دو دہائیوں بعد انخلا شروع
Web Desk
30 September 2026
عراق سے دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد امریکی افواج کا حتمی انخلا باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ امریکی افواج ملک میں اپنے آخری فوجی اڈوں سے بھی اپنا انخلا مکمل کر رہی ہیں۔ یہ تاریخی انخلا 2024ء میں طے پانے والے معاہدے کے تحت عمل میں آ رہا ہے جسے اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ عراق میں 20 سال سے زائد عرصے پر محیط اس عسکری موجودگی کے دوران تقریباً 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
امریکی فوج سب سے پہلے 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے عراق میں داخل ہوئی تھی، اور بعد ازاں 2011ء میں ابتدائی انخلا کے بعد 2014ء میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے دوبارہ واپس آئی تھی۔ ایران اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں نے امریکی انخلا کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے سے امریکی عسکری موجودگی کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت اور اپنی تاریخی فتح قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، عراقی سکیورٹی ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی افواج کے جانے سے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ اور تسلط میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں
30 September 2026
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام
30 September 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
30 September 2026
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی
30 September 2026
اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن گریم ڈوٹ کو 2 بچوں سے جنسی زیادتی کے جر م میں 7 سال قید کی سزا
30 September 2026
وزیر اعظم شہباز شریف دورہ امریکا اور برطانیہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے
30 September 2026
ایران کی صورتحال بہت خراب ہے، نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ
30 September 2026
سعودی ولی عہد کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، مکہ دفاعی معاہدے کے سیکرٹریٹ کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ
30 September 2026