LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی قانون موجود نہیں: پی ٹی اے کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب انڈونیشیا کی جیل میں ڈبل بیڈز کمرے، ٹی وی اور سوئمنگ پول حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کراچی: زیر تعمیر پل کی شٹرنگ اچانک گر گئی، ایک شخص جاں بحق افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائی، 22 ہلاک، ٹھکانے تباہ خانیوال میں بیٹھے پاکستانی نوجوان نے امریکی ڈاکخانے کو 126 ملین ڈالر کا چونا لگا دیا ایران میں مہنگائی کی شرح 83 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

امریکا سے مذاکرات پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور مختصر ہوسکتے ہیں: عراقچی

Web Desk

30 September 2026

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ حالیہ بالواسطہ مذاکرات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنجیدہ اور مختصر ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے تحت ایران نے اپنا نیا اور جامع امن منصوبہ پیش کر دیا ہے اور تہران اب واشنگٹن کے باضابطہ ردِعمل کا منتظر ہے۔ عباس عراقچی کے مطابق، اگرچہ امریکی صدر کی جانب سے ابتدائی طور پر ان تجاویز پر تحفظات سامنے آئے تھے، لیکن اس کے باوجود سفارتی رابطوں کا جاری رہنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی گنجائش اور امکانات اب بھی موجود ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مذاکرات میں پیشرفت کی امید کے باوجود ایران اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ دوسری جانب، ایرانی قیادت نے سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کو عسکری طاقت کے استعمال سے متعلق سخت اور واضح پیغامات بھی بھیجے ہیں۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، سپریم لیڈر اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشترکہ موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران خطے میں امریکی افواج کی موجودگی سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہے اور کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی یا جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور مسلح ہے۔