LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی افغان سرزمین سے دہشت گردی ختم کیے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں: اسحاق ڈار بھارت ریاستی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی میں ملوث ہے: صائمہ سلیم پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ہے: خواجہ آصف اسلام آباد میں احتجاج کے تماشے کو ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا: رانا ثنا

ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی

Web Desk

26 September 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) کے علاقے درازندہ میں واقع ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے خودکش کار بم حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں اور 2 کسٹمز اہلکاروں سمیت 11 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ریسکیو 1122 اور پولیس ذرائع کے مطابق بارود سے بھری ہوئی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی گئی جس کے باعث انتہائی شدید نوعیت کا دھماکا ہوا۔ اس بزدلانہ دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والوں میں 6 پولیس اہلکار، 2 کسٹمز اہلکار، دو خواتین اور ایک معصوم دو سالہ بچہ بھی شامل ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں پولیس اور کسٹمز کے عملے سمیت کئی افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے، جس کے باعث اموات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں انسدادِ اسمگلنگ چیک پوسٹ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، اس خونی حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی ہے، اور سکیورٹی ادارے واقعے کی تمام زاویوں سے گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔