LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا بلیک میلنگ کیلئے استعمال ناقابلِ قبول : سعودیہ وزیرِ خارجہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش ناقابل قبول، حرمین شریفین کی سلامتی سرخ لکیر ہے: وزیراعظم تربیتی مشق کے دوران بحری حادثہ: قازق بحریہ کے فرسٹ ڈپٹی کمانڈر سمیت 5 افسر گرفتار بلاول بھٹو سے چوہدری یاسین اور راجہ پرویز اشرف کی الگ الگ ملاقاتیں ڈی آئی خان میں پولیس چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکا، 11 افراد شہید، متعدد زخمی پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں، مجبوراً کنٹینرز لگا کر روکنا پڑتا ہے: گورنر پنجاب بیلاروس کی جدید طبی ٹیکنالوجی قابلِ تحسین ہے، چیئرمین سینیٹ سہیل آفریدی انتظامی طور پر فارغ، اب سیاسی طور پر بھی ہوچکے: عطا تارڑ بلوچستان میں شرپسندوں کا ڈیرہ بگٹی پر حملہ پسپا، 13 دہشت گرد مارے گئے بلوچستان کے ضلع دکی میں تعمیراتی کمپنی کے 18 مزدور اغوا، گارڈ شہید خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ، الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری بلدیات کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بروقت اقدام ہے، وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی الزام پر ایف آئی اے دوبارہ انکوائری نہیں کرسکتی: عدالت فیلڈ مارشل کی سعودی وزیرِ دفاع سے ملاقات، دفاعی تعاون جاری رکھنے کا عزم خیبر پختونخوا اسمبلی میں ارکان کی گرفتاری کا طریقہ کار واضح، سپیکر کی اجازت لازمی

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات

Web Desk

25 September 2026

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ میں شامل تینوں برادر ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک اہم اور اعلیٰ سطحی ملاقات منعقد ہوئی۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے شرکت کی۔

ملاقات کے دوران رہنماؤں نے معاہدے کے تحت جنرل سیکرٹریٹ، مختلف کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام کے سلسلے میں اب تک ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کی اہم شہری اور اقتصادی تنصیبات پر کیے جانے والے گھناؤنے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی، اور سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مستعدی اور مملکت کی سلامتی کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

ترجمان کے مطابق ملاقات کا ایک اہم نکتہ تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج (آرمی چیفس/عسکری قیادت) کا ہنگامی اجلاس بلانے پر غور کرنا تھا، جس کا مقصد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سعودی عرب کی مؤثر عسکری و سکیورٹی معاونت کے تمام ممکنہ طریقوں کا جائزہ لینا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاہدے کے بنیادی اصول کے تحت کسی بھی ایک فریق پر ہونے والے حملے کو تینوں فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

اجلاس میں خطے کی مجموعی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جہاں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں اور کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے سمندری تجارت کے تسلسل کے لیے بحری آمدورفت کے تحفظ اور آزادی کو یقینی بنانے کی شدید ضرورت پر اتفاق کیا، اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام، کشیدگی میں کمی لانے کی تمام کوششوں کی حمایت اور بحرانوں کے پُرامن سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے عزم کا اعادہ کیا۔