LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار، اسلام آباد منتقل

Web Desk

17 September 2026

معروف حقوقِ انسانی کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس نے ایک بار پھر حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جیل کے مرکزی گیٹ کے باہر سے عمل میں لائی گئی، جہاں پہلے سے موجود اسلام آباد پولیس کی خصوصی ٹیم نے دونوں کو حراست میں لیا۔

گرفتاری کے اس موقع پر پیش رفت کی نگرانی ایس پی سٹی خود کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق ایس پی سٹی کی قیادت میں آنے والی اسلام آباد پولیس کی نفری نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لیا اور گاڑیوں کے سخت پہرے میں اسلام آباد کی جانب روانہ کر دیا۔

یاد رہے کہ دونوں وکلا کو مختلف مقدمات میں قانونی عمل کے بعد عدالت سے ریلیف ملنے پر اڈیالہ جیل سے رہا کیا جا رہا تھا، تاہم جیل کے باہر قدم رکھتے ہی اسلام آباد پولیس نے انہیں کسی نئے یا زیرِ التوا مقدمے کی آڑ میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ اس پیش رفت سے قانونی و سیاسی حلقوں اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔