LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
میل اِن ووٹنگ کا نظام بدعنوانی اور بے قابو مسائل کا شکار ہے: ٹرمپ 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی اگست میں فیول ایڈجسٹمنٹ میں کمی سے 10 ارب روپے کی بچت ہوئی: اویس لغاری پاکستان اور آئی اے ای اے میں چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرا دی گئی حکومتی سطح پر سمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی بات زیر بحث نہیں: طارق فضل چودھری پٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے کے ریلیف سے عام آدمی کو کچھ سہولت ملے گی: مصدق ملک خلیجی خطے میں حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں: حاقان فیدان سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے: بیرسٹر گوہر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1421 پوائنٹس بڑھ گیا سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر سربیا کے صدر کا 27 ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی کال: اسلام آباد میں ہائی الرٹ اور ڈی چوک سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع

پاکستان اور آئی اے ای اے میں چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط

Web Desk

15 September 2026

پاکستان اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے درمیان 1200 میگاواٹ کے چشمہ-5 (C-5) نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سیف گارڈز معاہدے پر باضابطہ دستخط ہو گئے ہیں۔ معاہدے پر چیئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) ڈاکٹر راجہ علی رضا انور اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی نے دستخط کیے۔ اس اہم تقریبِ دستخط میں چائنا اٹامک انرجی اتھارٹی (CAEA) کے چیئرمین شان ژونگ ڈے نے بھی خصوصی شرکت کی۔

واضح رہے کہ آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز نے مارچ 2026ء میں سی-5 سیف گارڈز معاہدے کی متفقہ منظوری دی تھی۔ ترجمان کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے پرامن ایٹمی عزم، سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے شفاف استعمال اور بین الاقوامی سطح پر عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کی ذمہ داریوں پر عالمی برادری کے بے پناہ اعتماد کا واضح مظہر ہے۔

اعلامیے کے مطابق چشمہ-5 نیوکلیئر پاور پلانٹ پر تعمیراتی کام انتہائی تیزی سے جاری ہے اور ری ایکٹر بلڈنگ کے گنبد کی تنصیب وقت سے پہلے ہی مکمل کر لی گئی ہے۔ 1200 میگاواٹ کا یہ جدید پاور پلانٹ سال 2028ء میں بجلی کی باضابطہ پیداوار شروع کرے گا، جس سے قومی گرڈ کو سستی، ماحول دوست اور پائیدار بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اس وقت پاکستان 3530 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے 6 ایٹمی پاور پلانٹس کامیابی سے چلا رہا ہے، جبکہ معاہدے کے موقع پر چیئرمین پی اے ای سی اور چیئرمین سی اے ای اے کی ملاقات میں پاک چین پرامن ایٹمی تعاون کے مستقبل کے منصوبوں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔