LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے کے ریلیف سے عام آدمی کو کچھ سہولت ملے گی: مصدق ملک خلیجی خطے میں حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں: حاقان فیدان سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے: بیرسٹر گوہر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1421 پوائنٹس بڑھ گیا سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر سربیا کے صدر کا 27 ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی کال: اسلام آباد میں ہائی الرٹ اور ڈی چوک سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع امریکا ایران کشیدگی پھر عروج پر، پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت آزاد کشمیر کے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 24 ستمبر کو ہوگی قیدیوں کا پرائیویٹ علاج: سپریم اور ہائیکورٹس سے تمام متعلقہ درخواستوں کا ریکارڈ طلب امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: میل بیلٹس پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان,امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن

گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر

Web Desk

15 September 2026

گلگت بلتستان کابینہ نے مالی سال 2026-27ء کا سالانہ بجٹ منظور کر لیا ہے، جس کا مجموعی حجم 218 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 28 ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 23 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اس میں وفاقی حکومت کا خصوصی سٹیبلائزیشن پیکیج بھی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ امجد حسین کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں صوبائی حکومت اور نجی اداروں میں ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 44 ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری دی گئی، جبکہ تمام محکموں کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 30 فیصد تک کٹوتی کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے بجٹ کے خد وخال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محدود مالیاتی وسائل کے باوجود سوشل سیکٹر کی بہتری اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کا بنیادی محور ہے۔ بجٹ میں پہلی بار سوشل پروٹیکشن کے لیے ایک ارب روپے اور سوشل سیکٹر کے لیے 4 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، صحت کے شعبے میں ادویات کی خریداری کے لیے 17 کروڑ روپے کا اضافی فنڈ مختص کیا گیا ہے جبکہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ، ہونہار طلبہ کے لیے اسکالرشپ اور زرعی شعبے میں واٹر مینجمنٹ کے فروغ کے لیے 5 کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔

حکومتی سطح پر بچت اور ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے غیر ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری دفاتر سے زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی پرانی گاڑیوں کو نیلام کرنے اور ان کی جگہ ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماحول کی حفاظت کے لیے ترقیاتی منصوبوں سے ایک فیصد کلائمیٹ فنڈ کی کٹوتی کر کے اسے کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے اسمبلی کے تمام حکومتی و اپوزیشن ارکان کو برابر ترقیاتی فنڈز دیے جائیں گے اور تمام ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون (PC-1) اور ٹینڈرنگ کے عمل میں مکمل شفافیت برقرار رکھی جائے گی۔