LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جائے: بیرسٹر گوہر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، حکومت کا سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1421 پوائنٹس بڑھ گیا سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات گلگت بلتستان کابینہ میں بجٹ منظور، کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر سربیا کے صدر کا 27 ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی کال: اسلام آباد میں ہائی الرٹ اور ڈی چوک سمیت اہم شاہراہوں پر کنٹینرز کی تنصیب شروع امریکا ایران کشیدگی پھر عروج پر، پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت آزاد کشمیر کے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری، پولنگ 24 ستمبر کو ہوگی قیدیوں کا پرائیویٹ علاج: سپریم اور ہائیکورٹس سے تمام متعلقہ درخواستوں کا ریکارڈ طلب امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: میل بیلٹس پر پابندیوں سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد 20 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان,امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسحاق ڈار اور رافیل گروسی میں رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر اتفاق خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کا سفر جاری رکھیں گے: وزیراعظم

بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے 7 رہنماؤں کو سزائے موت

Web Desk

15 September 2026

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ کے 7 سینئر رہنماؤں کو سزائے موت سنانے کا بڑا فیصلہ جاری کیا ہے۔ ڈھاکہ سے موصول ہونے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق، 15 ستمبر 2026ء کو ٹریبونل نے ان رہنماؤں کو 2024ء کے دوران ملک گیر طلبہ تحریک پر تشدد اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے ارتکاب کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی۔

عدالت نے یہ فیصلہ تمام نامزد مجرمان کی غیر موجودگی (In Absentia) میں سنایا کیونکہ عوامی لیگ کی حکومت کا خاتمہ ہونے کے بعد سے مذکورہ تمام رہنما روپوش ہیں یا ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔ سزائے موت پانے والے سرکردہ رہنماؤں میں عبیدالقادر، اے ایف ایم بہاءالدین نسیم، محمد علی عرفات، شیخ فضل شمس پراش، مینول حسین خان نکھل، صدام حسین اور شیخ ولی عاصف عنان شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2024ء میں بنگلہ دیش میں سرکاری نوکریوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک کے دوران سابقہ حکمران جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے کارروائیوں اور تشدد کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ عبوری حکومت کے قیام کے بعد سے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ان مظالم کی قانونی تحقیقات کر رہا ہے اور اس فیصلے کو بنگلہ دیشی سیاست میں انتہائی اہم تبدیلی اور حسینہ واجد کی پارٹی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔