LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان میں داعش خراسان اب بھی سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے: روس کا انتباہ نیویارک میں محبوس وینزویلا کے سابق صدر کی اہلیہ کو ہارٹ اٹیک کا خدشہ سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان انڈونیشیا میں بحری جہاز خراب موسم کی لپیٹ میں آ گیا، 102 مسافر بچا لیے گئے، 140 تاحال لاپتا ایران کی امریکہ کو 7 شرائط پیش، مطالبات کی منظوری تک آبنائے ہرمز بند رکھنے کا فیصلہ ناکہ بندی کے دوران 60 روز میں 100 تجارتی بحری جہاز واپس بھیجے، سینٹ کام سعودی و برطانوی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو سعودی شہر جازان پر حوثیوں کا حملہ: عمارتیں اور گاڑیاں نشانہ، 2 افراد زخمی حوثیوں کا یمن پر 48 گھنٹوں میں سعودی عرب کی جانب سے 129 فضائی حملوں کا دعویٰ ایران اور عمان میں طے پانے والی مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی: ایرانی میڈیا یمن میں حالات ابتر، امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے: یمنی سفیر چینی صدر کی امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش امریکی نمائندے کیف میں کوئی نئی تجاویز لے کر نہیں آئے، دفتر یوکرینی صدر فوجی صلاحیتیں دشمن کی توقعات سے کہیں زیادہ، قومی مفادات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: سربراہ ایرانی فوج امریکا محاصرہ اور جارحیت ختم کرے تو آبنائے ہرمز کھول دیں گے، ایرانی صدر

سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف موجودہ نظام سے خامیاں دور کرے: پاکستان

Web Desk

13 September 2026

نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے عالمی فریم ورک کو مضبوط بنائے، پابندیوں کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرے اور دہشت گردی کے ابھرتے ہوئے جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا، جامع اور دور اندیش بین الاقوامی ردعمل اختیار کرے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ’دہشت گردی کی کارروائیوں سے بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کو لاحق خطرات، نائن الیون کے 25 سال بعد: دہشت گردی کے خلاف سلامتی کونسل کی لڑائی کی تجدید‘ کے عنوان پر سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے نائن الیون کے حملوں میں جان بحق ہونے والے 7 پاکستانیوں سمیت تمام متاثرین کو خراجِ تحسین پیش کیا اور امریکی حکومت و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

سفیر عاصم افتخار نے 9/11 کے بعد کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں پر سلامتی کونسل کا ردعمل، بشمول تاریخی قرارداد 1373 کی منظوری، تاحال بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس عالمی جنگ میں پاکستان کے بنیادی اور فرنٹ لائن کردار کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی مؤثر انٹیلی جنس اور سکیورٹی کارروائیوں نے القاعدہ کی صلاحیتوں کو فالج زدہ کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کی لازوال قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس جنگ میں پاکستان نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے۔ جاری صدی کے آغاز سے اب تک سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں سمیت 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے، جبکہ ملک کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مستقل مندوب نے تشویش ظاہر کی کہ 25 برسوں کے دوران دہشت گردی کی نوعیت اور فریم ورک بالکل بدل چکا ہے۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی پر خاص تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 4,700 سے زائد پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)، بی ایل اے، ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسے خطرناک گروہوں کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی ایکشن کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں ذہن سازی، مالی اعانت اور بھرتی کے لیے ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب دنیا بھر میں انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی تیزی سے ابھر رہی ہے۔

عاصم افتخار نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ غیر ملکی مقبوضہ علاقوں میں قابض قوتوں کے مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی عالمی انسداد دہشت گردی حکمت عملی (UN Global Counter-Terrorism Strategy) کے چاروں ستونوں پر متوازن عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کیا جا سکے۔