LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا، اتحادیوں کے دباؤ پر قرارداد منظور کی: ایران یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں 3 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئیں امریکی صدر کی قطر کی جانب سے دیئے گئے ایئر فورس ون طیارے پر ٹیکساس روانگی برطانوی فضائی ٹریفک کنٹرول میں بڑی فنی خرابی، حکومت کا ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں، ایرانی میڈیا ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی، معاملہ سلامتی کونسل میں جائے گا آبی مسئلے سمیت پاک بھارت کشیدگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی تشویش ہے، ماریہ زخارووا

ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ

Web Desk

10 September 2026

ایران نے یمن کی تحریکِ انصار اللہ (حوثی تحریک) کے بارے میں امریکی وزیرِ خارجہ کے حالیہ الزامات کو سراسر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ انصار اللہ یمن کی ایک بالکل خودمختار اور مستقل مزاج تنظیم ہے، جو تمام سیاسی و عسکری فیصلے اپنے خطے کی ضرورت اور حکمتِ عملی کے تحت خود کرتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انصار اللہ نہ تو کسی بیرونی ملک سے احکامات لیتی ہے اور نہ ہی وہ خطے میں کسی کی ’پراکسی‘ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل بدامنی اور عدم استحکام کی اصل جڑ امریکہ کی بلاجواز فوجی مداخلت، جارحانہ رویہ اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں۔ اگر واشنگٹن انتظامیہ واقعی خطے میں پائیدار امن کی خواہاں ہے تو اسے فوری طور پر مداخلت کا سلسلہ بند کرنا ہو گا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ یمن پر بمباری اور بیرونی فوجی دباؤ کے ذریعے کبھی امن قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ امن کا واحد راستہ تمام مقامی و علاقائی فریقوں کے متفقہ روڈ میپ کی بنیاد پر باہم اور حقیقی مذاکرات میں ہی مضمر ہے