LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ جنوری 2029ء تک جاری رہنے کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات: ڈائریکٹر سی آئی اے کا فعال کردار ادا کرنے کا امکان ایران کا امریکا سے خطے میں امن کیلئے عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرنے کا مطالبہ دبئی: ڈی پی ورلڈ آئی ایل ٹی ٹوئنٹی سیزن 5 کی لانچ تقریب، ایونٹ کا آغاز 22 نومبر سے ہوگا یو اے ای میں عالمی کرکٹ ستاروں کی موجودگی مقامی ٹیلنٹ کیلئے اہم موقع قرار قطر کی سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثی حملوں کی شدید مذمت اردن میں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز متبادل مقامات پر منتقل یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا جوہری توانائی ایجنسی نے امریکا، اتحادیوں کے دباؤ پر قرارداد منظور کی: ایران یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں 3 سال کی بدترین سطح پر پہنچ گئیں امریکی صدر کی قطر کی جانب سے دیئے گئے ایئر فورس ون طیارے پر ٹیکساس روانگی برطانوی فضائی ٹریفک کنٹرول میں بڑی فنی خرابی، حکومت کا ایک ہفتے میں تحقیقات کا حکم حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ واجد ڈبلیو ایچ او کے عہدے سے مستعفی ایران کے جزیرے قشم اور سیریک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں، ایرانی میڈیا ایران کی جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی، معاملہ سلامتی کونسل میں جائے گا

اسرائیل کا مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان

Web Desk

9 September 2026

اسرائیل نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے جواب میں مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں قائم برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون سار نے انتقامی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ برطانوی پابندیوں کے ردِعمل میں قونصل خانے کی بندش کے ساتھ ساتھ برطانیہ کو غزہ کے لیے امریکی قیادت میں قائم رابطہ مشن میں حصہ لینے سے روک دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کو دی جانے والی برطانوی تربیت ختم کر دی جائے گی اور منتخب برطانوی عہدیداروں و شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر بھی پابندی ہوگی۔ واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں قائم برطانوی قونصل خانہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ میں برطانیہ کی سفارتی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ شدید سفارتی کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کردہ اشیاء پر پابندی کا اعلان کیا اور کہا کہ اب محض آواز اٹھانے کے بجائے عملی اقدام کا وقت آ چکا ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا، آئرلینڈ، ناروے اور اسپین سمیت 12 ممالک نے مشترکہ بیان میں غیر قانونی بستیوں سے تجارت پر پابندی کا عزم ظاہر کیا ہے، کیونکہ یہ اقدامات ‘دو ریاستی حل’ کو تباہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ اس اقدام پر امریکی ریاستوں میں بھی برطانوی کاروباروں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں