LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین ایرانی جوہری تنصیبات تک آئی اے ای اے کو رسائی کے مثبت اثرات ہونگے: رافیل گروسی جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، 3 روز میں 27 افراد جاں بحق، 69 زخمی صدرٹرمپ کی کینیڈین کمپنی بمبار ڈیئر کو طیاروں کی فروخت روکنے کی دھمکی آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی کا قانون نافذ ایران کا امریکی اور اسرائیلی حملوں میں خارگ جزیرے کو 550 مرتبہ نشانہ بنانے کا اعتراف دشمن نے جنگ بارے ایرانی صلاحیت کا درست اندازہ نہیں لگایا: بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری ایران نے دفاعی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کردی ایران نے جوہری تنصیبات کے معائنے کو موجودہ حالات میں بے معنی قرار دیدیا ایران جنگ: عالمی معیشت میں تبدیلیوں کے اثرات جنگ کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان جنگ کے دوران 27 ہوائی اڈوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا: مرتضیٰ دہقان امریکا، روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی بحالی خارج از امکان نہیں: کریملن اقوام متحدہ کا حوثی باغیوں کی تازہ کارروائیوں، جھڑپوں میں شدت پر اظہار تشویش

غزہ بورڈ آف پیس نے اسرائیلی مظالم کے باعث دو ریاستی حل ناممکن قرار دیدیا

Web Desk

8 September 2026

غزہ بورڈ آف پیس کے اعلیٰ نمائندے اور اقوامِ متحدہ کے سابق سفارتکار نکولے ملاڈینوف نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں موجودہ تباہ کن صورتحال برقرار رہی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا سلسلہ یوں ہی بڑھتا رہا تو اسرائیل فلسطین ‘دو ریاستی حل’ ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ ابوظہبی میں انعقاد پذیر ‘ہیلی فورم’ سے خطاب کرتے ہوئے ملاڈینوف نے نشاندہی کی کہ اس وقت غزہ کی پٹی کے 50 فیصد سے زائد رقبے پر اسرائیلی فوج کا براہِ راست قبضہ اور باقی ماندہ حصوں میں حماس کی عسکری و انتظامی موجودگی اس دیرینہ تنازع کے سیاسی و سفارتی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

نکولے ملاڈینوف نے زور دیا کہ تاریخی دو ریاستی حل کی طرف واپسی کے لیے ضروری ہے کہ غزہ میں ایک آزاد و غیر جانبدار عبوری طرزِ حکمرانی قائم کی جائے، عسکری گروپوں کے ہتھیاروں کی مرحلہ وار تلفی کا عمل شروع ہو اور اسرائیلی افواج کا علاقے سے مکمل انخلاء یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے ملاڈینوف پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی فوری اور بلا تعطل تعمیرِ نو کے لیے اسرائیل کو پہلے سے طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں اور جنگ بندی کی شرائط کی پابندی پر آمادہ کریں۔ واضح رہے کہ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کے تشدد، چھاپوں اور حملوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔