LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف نیویارک: واشنگٹن اسکوائر پارک میں میئر زوہراں ممدانی سے مشابہت رکھنے والوں کے مقابلے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا ایران امریکی حملے کا تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز جواب دے گا: ابراہیم عزیزی ایران کی معاشی تنہائی کیلئے چین پر پابندیوں سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں، سکاٹ بیسنٹ ٹرمپ کی جھیل اونٹاریو کی جگہ جھیل امریکا کا بورڈ لگانے کی ویڈیو وائرل لارک جزیرے پر حملے کے بعد ایران کے امریکی فوجی اڈوں، بحری جہازوں پر جوابی حملے

پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف

Web Desk

31 August 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملک کے سماجی و سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حکمران اشرافیہ کے ہر طبقے کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی، تاہم صرف بیوروکریسی ہی واحد شعبہ ہے جو ہمیشہ احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں وزیر دفاع نے کہا کہ کرپشن، بدانتظامی اور دیگر سنگین الزامات پر حکمران طبقے کے ہر گروہ کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، لیکن بیوروکریسی کا کبھی احتساب نہیں ہوا۔ انہوں نے تاریخی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام پاکستانیوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ ملک پر سویلین حکومتوں کے دور میں بھی درحقیقت بیوروکریٹس حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ سابق گورنر جنرل غلام محمد، سابق وزیراعظم چوہدری محمد علی، اور سابق صدور میجر جنرل (ر) سکندر مرزا اور غلام اسحاق خان بنیادی طور پر بیوروکریٹس تھے، جنہوں نے سیاست دانوں کے پاس اقتدار ہوتے ہوئے بھی فیصلے کیے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بیوروکریسی کو اس طاقتور موقع کی فراہمی میں سیاست دانوں کی اپنی نااہلی اور باہمی اختلافات کا بڑا ہاتھ رہا۔ انہوں نے زور دیا کہ بیوروکریٹس کو محض تنقید کا نشانہ بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ اگر سیاست دان اپنی اصلاح کر لیں اور جمہوری رویے اپنائیں تو بیوروکریسی میں اصلاحات اور احتساب کا نظام خود بخود قائم ہو جائے گا۔