LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
انڈونیشیا کے ساحلی علاقے میں شدید زلزلہ، شدت 7.7 ریکارڈ بھارتی یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں مزید سخت، فورسز کی بھاری نفری تعینات یمن کی موکا بندرگاہ پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ، 4 افراد جاں بحق ترکیہ کا امریکہ سے اسرائیل کو غزہ معاہدے پر عملدرآمد کیلئے مجبور کرنے کا مطالبہ شہید رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیں شہادت اور شجاعت سکھائی: باقر قالیباف بہت جلد میں آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کروں گا : صدر ٹرمپ کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی طیاروں کی بمباری امریکا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے: سابق امریکی کمانڈر ملک کا اتحاد سب سے اہم، یہ ٹوٹ گیا تو طاقت بھی بکھر جائیگی: ایرانی صدر آبنائے ہرمز کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے: کاظم غریب آبادی قطر اور پاکستان کیساتھ پیغامات کا تبادلہ کررہے ہیں: ایران کی تصدیق بھارتی یوم آزادی: دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منائیں گے میر رضا کے والدین اور شہریوں کا احتجاج، طارق روڈ پر دھرنا، قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ ایران کا ہرمزگان میں ایک اور ایم کیو نائن ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن، ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد یوم آزادی 2026ء: صدر مملکت نے 355 شخصیات کیلئے سول ایوارڈز کی منظوری دے دی

بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل

Web Desk

12 August 2026

جلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے کپیسٹی پیمنٹ اور آپریشنل اخراجات کی مد میں صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے عوامی سماعت مکمل کر لی ہے۔ چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں ہونے والی اس سماعت میں رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ فی یونٹ اضافے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ کمپنیوں نے مجموعی طور پر 49 ارب 74 کروڑ روپے وصول کرنے کی اجازت مانگی ہے، جس میں سے 23 ارب روپے سے زائد کی رقم صرف کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں مانگی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے آپریشن اینڈ مینٹیننس (O&M) کے اخراجات کے لیے 4 ارب 95 کروڑ روپے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر صنعتی صارفین نے مجوزہ اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مؤخر کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ انڈسٹری اور عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ ثابت ہو گا۔

سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے حکام نے مؤقف اپنایا کہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی سولرائزیشن کے باعث قومی گرڈ سے بجلی کی فروخت میں کمی آ رہی ہے، جس پر ممبر نیپرا انور مقصود نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سولر سسٹم نہ ہوتے تو اس وقت ملک میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہوتا، لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ صرف سولر کی وجہ سے بجلی نہیں بک رہی۔ نیپرا نے تمام فریقین کے دلائل اور پیش کردہ اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جسے جلد جاری کیا جائے گا۔