LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے ہر حملے کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی 4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اتری تو علاقہ ان کیلئے جہنم بنا دیں گے: ایرانی بحریہ خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ اسرائیل کا عرب لیگ کے نئے سیکرٹری جنرل کو, رام اللہ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار

امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا

Web Desk

9 July 2026

عالمی میڈیا نے اپنی تازہ ترین رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جاری فوجی حملوں کو ایک خاص حد اور دائرہ کار میں محدود رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ انہیں ملکی سطح پر عوامی اور سیاسی حمایت حاصل رہے۔ واشنگٹن سے امریکی اور عرب ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں کیے گئے زیادہ تر عوامی جائزوں (پولیز) سے یہ بات واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ امریکی شہریوں کی اکثریت کسی بھی نئی طویل جنگ یا مسلسل رہنے والے فوجی تنازع کے حق میں بالکل نہیں ہے۔ اسی عوامی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے وائٹ ہاؤس مسلسل اس مؤقف کا پرچار کر رہا ہے کہ ایران پر کیے جانے والے حالیہ فضائی حملے انتہائی محدود پیمانے پر اور مخصوص اہداف کے خلاف کیے گئے ہیں تاکہ خطے میں کسی بڑی جنگ کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ فوجی کارروائیاں کسی جارحیت کے لیے نہیں بلکہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی پر ایران کی جانب سے کیے جانے والے مبینہ حملوں کے جواب میں مجبوری کا نتیجہ ہیں۔ تجزیاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیاسی و تزویراتی طور پر صدر ٹرمپ ان عسکری کارروائیوں کو ایک محدود دفاعی اقدام کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور اگر وہ اس حوالے سے ایک مفاہمتی اور متوازن یادداشت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں، تو امریکی عوام اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ان کے ان اقدامات کو زیادہ بڑے پیمانے پر قبولیت اور حمایت ملنے کا قوی امکان ہے۔