امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید
Web Desk
9 July 2026
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایران کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم اور جنگی کارروائیوں کے آغاز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں سینیٹر برنی سینڈرز نے واشنگٹن کو متنبہ کیا کہ ایران کے ساتھ اس لاپروا جنگ کو دوبارہ شروع کرنا کسی بھی طور پر امریکہ کو مضبوط نہیں بنائے گا، بلکہ اس غیر ضروری مہم جوئی کی بھاری قیمت مزید بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع اور امریکی ٹیکس دہندگان کے مزید اربوں ڈالرز کی بربادی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری تصادم کے بجائے سفارتی راستے کا انتخاب ہی ملکی اور عالمی مفاد میں ہے۔
سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلوں پر براہِ راست سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جھوٹ پر مبنی جنگ میں امریکہ کو دھکیلنے کے بعد، اب ٹرمپ نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران ایران کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کو یکطرفہ طور پر ختم قرار دے دیا ہے، جو کہ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے۔ امریکی سینیٹر نے بائیڈن یا ٹرمپ انتظامیہ کے ایران سے متعلق حالیہ جارحانہ اقدامات کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی تصادم کی پالیسی کو ترک کرے اور ایران کے ساتھ جاری اس سنگین بحران کے حل کے لیے جنگ کے بجائے دوبارہ پرامن سفارتی راستہ اختیار کرے۔
متعلقہ عنوانات
ایران کے ہر حملے کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی
9 July 2026
4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری
9 July 2026
اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ
9 July 2026
سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار
9 July 2026
امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا
9 July 2026
امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون
9 July 2026
امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا
9 July 2026
چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش
9 July 2026