LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

عمران خان سےعظمیٰ خان اور وکیل سلمان صفدر کی ملاقات کرا دی گئی

Web Desk

2 December 2025

عمران خان سے ان کی فیملی اور وکلاء کی ملاقات کے سلسلے میں جو ہیجان برپا تھا آج اس کا ڈراپ سین ہو گیا،جیل انتظامیہ نے جیل مینول کے عین مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن عظمیٰ خان اور وکیل سلمان صفدر کو اس شرط پر ملاقات کی اجازت دی کہ اس ملاقات کے دوران یا اس کے بعد کسی قسم کی سیاسی گفتگو یا سرگرمی نہیں کی جائے گی۔

جیل انتظامیہ کے اس فیصلے کے تناظر میں تحریک انصاف نے سلمان صفدر اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو ملاقات کے لیے نامزد کرنے کا ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ جیل انتظامیہ کی طرف سے دی گئی یہ اجازت جہاں ایک اچھا اور قانون کے مطابق کیا گیا فیصلہ ہے، وہیں اب تحریک انصاف پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی پاسداری کرے تاکہ فیملی اور وکلاء کی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔دوسری جانب ذرائع نے مزید بتایا گیا جیل انتظامیہ نے اس سلسلے کے تسلسل کے لیے یہ شرط عائد کی ہے کہ ملاقاتوں کے بعد کسی قسم کی بھی سیاسی سرگرمی یا گفتگو نہ کی جائے بصورت دیگر اس فیصلے پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔