LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپریم لیڈر نے امریکہ کیساتھ مذاکرات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، ایرانی صدر ایران کسی بھی نقصان زدہ جوہری تنصیب کا بین الاقوامی معائنہ نہیں ہونے دے گا، قالیباف دوحہ: ایران امریکہ مذاکرات میں مثبت پیشرفت، فریقین کا بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق بیلجیم میں 10 منزلہ عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 5 افراد جھلس کر ہلاک کیٹ میڈلٹن نے 24 گھنٹوں میں برطانیہ کی تین بلند ترین چوٹیاں سر کرلیں چیٹ جی پی ٹی کو امریکی شہری نے عدالت میں گھسیٹ لیا، سنگین الزمات جنوبی لبنان کے ضلع بنت جبیل، رشاف قصبے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں کینیا اسکول کی 8 لڑکیوں پر ساتھی طالبات کے قتل کے الزام میں فرد جرم عائد 40 سال بعد فیفا ورلڈکپ کے پری کوارٹر فائنل میں پہنچنے پر میکسیکو میں جشن، دم گھٹنے سے 3 افراد جان سے گئے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانے کی تعمیر کیلئے امریکہ و اسرائیل میں معاہدے پر دستخط کراچی میں بارشیں 584 مخدوش رہائشی عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ روس اور بحرین کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خلیجی صورتحال پر تبادلہ خیال امریکی نیوی کا ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کردیا وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 2000 سے تجاوز کرگئیں

شگر کے دو نوجوانوں نے نانگا پربت سر کر کے قومی پرچم لہرا دیا

Web Desk

1 July 2026

گلگت بلتستان کے ضلع شگر سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان کوہ پیماؤں نے کوہِ ہمالیہ کے فلک بوس پہاڑ اور دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ’نانگا پربت‘ کو کامیابی سے سر کر کے ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، شگر کے خوبصورت گاؤں ‘ارندو باشہ’ کے رہائشی دو نوجوان کوہ پیماؤں، محبوب علی اور عباس علی نے ’14 Peaks Expeditions’ کی تجربہ کار ٹیم کے ہمراہ مہم جوئی کا آغاز کیا اور تمام تر چیلنجز کو عبور کرتے ہوئے 8,126 میٹر بلند نانگا پربت کی چوٹی پر قدم رکھ دیا۔ دونوں کوہ پیماؤں نے چوٹی پر پہنچتے ہی فخر سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔

واضح رہے کہ نانگا پربت کو اپنی انتہائی مشکل چڑھائی، سخت ترین موسم اور برفانی تودوں کے گرنے کے خطرات کے باعث دنیا بھر میں “قاتل پہاڑ” (Killer Mountain) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کوہ پیمائی کی دنیا میں اس خطرناک چوٹی کو سر کرنا ایک غیر معمولی اور بہت بڑی تاریخی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔

اس شاندار کامیابی کی خبر پھیلتے ہی شگر، گلگت بلتستان اور ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے محبوب علی اور عباس علی کی اس جرات مندانہ کامیابی کو زبردست الفاظ میں سراہا جا رہا ہے اور انہیں مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔ اہل علم اور علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ہیرو بحفاظت بیس کیمپ واپس پہنچیں گے، اور ان کا یہ کارنامہ گلگت بلتستان کے دیگر نوجوانوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ثابت ہوگا۔