LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کے قومی دن پر صدر آصف زرداری کا صدر شی جن پنگ کو خط، پاک-چین شراکت داری مزید مضبوط بنانے کا اعادہ شام کے شہر حمص میں بس پر فائرنگ: 7 افراد ہلاک، 4 زخمی زمبابوے: ہرارے کے قریب ہیلی کاپٹر حادثہ، 6 افراد ہلاک محسن رضائی کی متحدہ عرب امارات کو نیتن یاہو کی میزبانی پر تنبیہ سعودی ولی عہد کا کشیدگی کم کرنے، سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان احتجاج کے نام پر جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی: شرجیل میمن صنعتکار سیاستدانوں پر سیاست چھوڑیں اور صنعتی ترقی پر توجہ دیں: مراد علی شاہ میرے پاس عراق میں رہنے کا آپشن تھا لیکن بہتر وزیراعظم چھوڑ کر جا رہے ہیں:ٹرمپ سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی طیارے کے مسافر تل ابیب پہنچ گئے نورستان کی لڑائی کا الزام پاکستان پر عائد کرنا سفید جھوٹ ہے: وزارتِ اطلاعات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گورنر راج یا ایمرجنسی، فیصلہ صدر اور وزیراعظم کا ہوگا: اعظم نذیر تارڑ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج، وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی کی اہم ملاقات سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے: خواجہ آصف پاکستان میں انشورنس پینیٹریشن جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد ہے: سی سی پی

انٹارکٹیکا میں ’خون کے آبشار‘ کا 100 سال پرانا معمہ حل

Web Desk

1 July 2026

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کے برفانی براعظم میں واقع دنیا کی مشہور اور پُرآسرار ’بلڈ فالز‘ (خونی آبشار) کے ایک صدی سے زائد پرانے معمہ کو بلآخر حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میک مرڈو ڈرائی ویلیز (McMurdo Dry Valleys) میں ٹیلر گلیشیئر سے بہنے والی یہ پانچ منزلہ سرخ آبشار اپنی خون جیسی گہری رنگت کے باعث طویل عرصے سے دنیا بھر کے محققین اور عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ تاہم، اب نئی سائنسی تحقیق نے یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ یہ مائع درحقیقت خون نہیں ہے۔

رواں سال شائع ہونے والی اس جدید تحقیق کے مطابق، آبشار سے نکلنے والا سرخ مائع دراصل آئرن (لوہے) کے اجزا سے بھرپور انتہائی نمکین پانی (Brine) ہے۔ یہ نمکین پانی گلیشیئر کے نیچے گہرائی میں موجود ایک قدیم ذخیرے میں قید ہے، جو برف کے شدید دباؤ اور گلیشیئر کی مسلسل حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً دراڑوں سے باہر نکلتا ہے۔

ماہرینِ ارضیات نے اس کی سائنسی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ جب یہ آئرن سے بھرپور پانی گلیشیئر سے باہر نکل کر پہلی بار ہوا (آکسیجن) کے رابطے میں آتا ہے، تو اس میں کیمیائی عمل ہوتا ہے جسے آکسیڈائزیشن (Oxidization) کہتے ہیں۔ آکسیڈائز ہونے کے بعد یہ پانی زنگ کی طرح گہرا سرخ رنگ اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے پوری آبشار دیکھنے میں بالکل خون کی دھار جیسی دکھائی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ اس پُرآسرار مقام کو سب سے پہلے آسٹریلوی ماہرِ ارضیات گریفتھ ٹیلر نے 1911ء میں دریافت کیا تھا، جس کے بعد اس گلیشیئر کا نام ان کے نام پر ‘ٹیلر گلیشیئر’ رکھا گیا اور اس منفرد رنگت کی وجہ سے اسے ’بلڈ فالز‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اب 115 سال بعد سائنس اس کے پُرآسرار سرخ رنگ کی اصل وجہ سامنے لانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔