LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کینیا اسکول کی 8 لڑکیوں پر ساتھی طالبات کے قتل کے الزام میں فرد جرم عائد 40 سال بعد فیفا ورلڈکپ کے پری کوارٹر فائنل میں پہنچنے پر میکسیکو میں جشن، دم گھٹنے سے 3 افراد جان سے گئے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل سفارتخانے کی تعمیر کیلئے امریکہ و اسرائیل میں معاہدے پر دستخط کراچی میں بارشیں 584 مخدوش رہائشی عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ روس اور بحرین کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خلیجی صورتحال پر تبادلہ خیال امریکی نیوی کا ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کردیا وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 2000 سے تجاوز کرگئیں ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ کراچی میں شاہین فورس کا کامیاب آپریشن، مبینہ پولیس مقابلے میں دو ڈاکو ہلاک پاک چین دوستی نسلوں پر محیط، سی پیک سے تعاون مزید مضبوط ہوگا: چینی سفیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کا وژن چین کی ترقی و خوشحالی کی بنیاد ہے: اسحاق ڈار اگر ایران نے امریکا پر حملہ کیا تو اس کا اسی انداز میں جواب دیا جائے گا: وائٹ ہاؤس امریکا نے ایران سے جوہری معاہدے کی امید ظاہر کر دی پاکستان کیلئے بڑی معاشی خوشخبری، ٹیکس وصولیاں پہلی بار 13 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئیں

کاہنہ سانحے کے بعد پنجاب میں ٹیوشن سینٹرز کی ریگولیشن کیلئے قانون سازی کا فیصلہ

Web Desk

1 July 2026

کاہنہ ٹیوشن سینٹر کے افسوسناک سانحے کے بعد پنجاب حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 1984 کے پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس میں اہم ترامیم لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ صوبے بھر میں قائم ٹیوشن سنٹرز کی ریگولیشن (منظم کرنے) کے لیے باقاعدہ قانون سازی پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، 41 سال پرانے اس مروجہ قانون میں ٹیوشن سینٹرز کا سرے سے کوئی واضح ذکر ہی موجود نہیں ہے، جس کے باعث اب تک ان کی رجسٹریشن، کڑی نگرانی اور بنیادی حفاظتی معیارات سے متعلق ایک بڑا قانونی خلا پایا جاتا ہے۔ اسی خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہزاروں سینٹرز بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے کام کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اب تمام ٹیوشن سنٹرز کو ایک باقاعدہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ان مجوزہ ترامیم میں ٹیوشن سینٹرز کی لازمی رجسٹریشن، بلڈنگ سیفٹی (عمارت کی مضبوطی)، فائر سیفٹی (آتشزدگی سے بچاؤ کے انتظامات) اور دیگر لازمی حفاظتی ضوابط کو قانونی حیثیت دینے کی اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ سال 2025 میں پنجاب اسمبلی میں ایک نجی رکن کی جانب سے بھی ٹیوشن سینٹرز کی ریگولیشن سے متعلق ایک اہم بل پیش کیا گیا تھا، جس میں رجسٹریشن، باقاعدہ سرکاری معائنے اور حفاظتی معیارات کو لازمی قرار دینے کی سفارشات دی گئی تھیں۔ اب صوبائی حکومت اس بل کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ ان دونوں مسودوں کو ملا کر ایک جامع اور مؤثر قانون سازی کو یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں کاہنہ جیسے کسی بھی دوسرے ناخوشگوار سانحے کا راستہ روکا جا سکے۔