LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا امریکا کا چین سے منسلک بڑا سائبر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر

Web Desk

16 June 2026

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اپنے ایک اہم ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران نے اصولی طور پر ایرانی عوام کے حقوق اور خودمختاری کا احترام کرنے کے امریکی عزم کو بین الاقوامی سطح پر جانچنے کے لیے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی صدر نے بتایا کہ طویل اور انتہائی پیچیدہ مذاکرات کے بعد ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے معزز اراکین نے اس مفاہمتی یادداشت کے حتمی متن کی مکمل طور پر حمایت اور منظوری دی ہے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے معاہدے کے پسِ پردہ محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس پورے عمل میں قومی مفادات کے فول پروف تحفظ اور ایرانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے معاہدے میں ضروری اور سخت شقیں شامل کروانے میں ایک کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، اور یہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے مابین کئی ماہ پر محیط پسِ پردہ اور اعلانیہ سفارتی مذاکرات کا حتمی نتیجہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ معاہدہ طویل عسکری و بحری جنگ کے فی الفور خاتمے اور دونوں طاقتوں کے مابین باضابطہ، باوقار سفارتی مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک انتہائی اہم اور پہلا عملی قدم ہے، تاہم اس امن پسندی کے باوجود ایران اپنی ملکی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ حالات، چیلنجز اور عسکری آپشنز کے لیے پوری طرح تیار اور چوکس ہے۔

ایرانی صدر نے اپنے پُرعزم بیان میں مزید کہا کہ اگر اس مفاہمتی یادداشت کی تمام سٹرٹیجک اور معاشی شقوں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سچے دل سے اور مکمل طور پر عملدرآمد کر دیا جائے، تو یہ مستقبل میں تہران کے لیے ایک قابلِ فخر اور تاریخی دستاویزی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ اور ایران نے اس اہم مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط مکمل کر لیے ہیں۔ اس عالمی اہمیت کے حامل معاہدے پر امریکہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط ثبت کیے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے ملکی قیادت کی مکمل منظوری کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے بااثر سپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کیے ہیں۔