LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ

امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر

Web Desk

16 June 2026

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اپنے ایک اہم ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران نے اصولی طور پر ایرانی عوام کے حقوق اور خودمختاری کا احترام کرنے کے امریکی عزم کو بین الاقوامی سطح پر جانچنے کے لیے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی صدر نے بتایا کہ طویل اور انتہائی پیچیدہ مذاکرات کے بعد ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ اسلامی) کے معزز اراکین نے اس مفاہمتی یادداشت کے حتمی متن کی مکمل طور پر حمایت اور منظوری دی ہے۔

ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے معاہدے کے پسِ پردہ محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس پورے عمل میں قومی مفادات کے فول پروف تحفظ اور ایرانی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے معاہدے میں ضروری اور سخت شقیں شامل کروانے میں ایک کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، اور یہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے مابین کئی ماہ پر محیط پسِ پردہ اور اعلانیہ سفارتی مذاکرات کا حتمی نتیجہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ معاہدہ طویل عسکری و بحری جنگ کے فی الفور خاتمے اور دونوں طاقتوں کے مابین باضابطہ، باوقار سفارتی مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک انتہائی اہم اور پہلا عملی قدم ہے، تاہم اس امن پسندی کے باوجود ایران اپنی ملکی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ممکنہ حالات، چیلنجز اور عسکری آپشنز کے لیے پوری طرح تیار اور چوکس ہے۔

ایرانی صدر نے اپنے پُرعزم بیان میں مزید کہا کہ اگر اس مفاہمتی یادداشت کی تمام سٹرٹیجک اور معاشی شقوں پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سچے دل سے اور مکمل طور پر عملدرآمد کر دیا جائے، تو یہ مستقبل میں تہران کے لیے ایک قابلِ فخر اور تاریخی دستاویزی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ اور ایران نے اس اہم مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک طریقے سے دستخط مکمل کر لیے ہیں۔ اس عالمی اہمیت کے حامل معاہدے پر امریکہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط ثبت کیے ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے ملکی قیادت کی مکمل منظوری کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے بااثر سپیکر محمد باقر قالیباف نے دستخط کیے ہیں۔