LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر مردان: پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹس شہید، راہگیر زخمی صدر زرداری کا امریکا اور ایران میں مفاہمتی یادداشت کے اعلان کا خیر مقدم پنجاب کا بجٹ 16 جون کو پیش کرنے کی منظوری فیلڈ مارشل نے اس بار ملک کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے کردکھایا: محسن نقوی

پچھلے سال کے بجٹ نے 116 لوگوں کی جان لی ، سینیٹر عون عباس

Web Desk

15 June 2026

سینیٹ کے اہم اجلاس میں سینیٹر عون عباس نے ملکی معاشی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وفاقی بجٹ کے غریب کش اثرات پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ انہوں نے ایوان میں دل دہلا دینے والے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں محض ایک سال کے دوران 116 افراد نے شدید غربت اور معاشی تنگدستی کے باعث موت کو گلے لگا لیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے سال کے بجٹ کی سخت ترین پالیسیوں نے ان 116 معصوم لوگوں کی جان لی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ (یو این او) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس وقت پاکستان میں ساڑھے گیارہ کروڑ سے زائد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ حکومتی معیار کے مطابق محض 8 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے شخص کو بھی امیر تصور کیا جا رہا ہے جو کہ زمینی حقائق کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔

سینیٹر عون عباس نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام پر 1700 ارب روپے کی خطیر پیٹرولیم لیوی مسلط کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا غریب ترین آدمی بھی پیٹرول خریدتے وقت 116 روپے فی لیٹر صرف لیوی کی مد میں قومی خزانے میں جمع کراتا ہے۔ حکومت کو ماضی کی کارکردگی یاد دلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی وبا کرونا ہمارے دورِ حکومت میں آئی تھی لیکن ہم نے معیشت اور غریب کو اس طرح لاوارث نہیں چھوڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی 24 فیصد معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے لیکن موجودہ بجٹ میں اس شعبے کی گروتھ صرف 4 فیصد بتائی گئی ہے، جو زراعت جیسے اہم ترین شعبے کے ساتھ حکومتی عدم توجہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔