LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کویت کے درمیان ‘پروٹوکول معاہدہ 2026’ پر دستخط بلوچستان کی صورتحال بارے دفاعی جائزہ اجلاس، سیف سٹی پروجیکٹ فعال کرنے کا فیصلہ وزیر خزانہ سے اسیاڈ گروپ کے وفد کی ملاقات، پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عزم فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کویت کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال یوکرین میں غیر ملکی فوجی دستے روس کے جائز فوجی اہداف بنیں گے، ماریہ زخارووا شاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیراعظم نامزد کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا وزیر داخلہ کا نادرا میگا سینٹر میں پاسپورٹ آفس کی سہولت مہیا کرنے کا اعلان پاکستانی طالبات کیلئے بڑی خوشخبری، ٹیوشن فیس اور ہاسٹل سمیت اسکالرشپ کا اعلان پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ

ایران کے شہر سیرک اور بندر عباس میں دھماکے، ایک شخص زخمی

Web Desk

12 June 2026

تہران: ایران کے اہم ساحلی اور بندرگاہی شہروں ‘سیرک’ اور ‘بندر عباس’ میں یکے بعد دیگرے پراسرار دھماکے اور حملے ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم ایک ایرانی ماہی گیر کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان دھماکوں کے فوری بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور ایرانی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں ایک بین الاقوامی آئل ٹینکر کو زبردستی روکنے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

 ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے “ارنا” (IRNA) کے مطابق، ایران کے ساحلی شہر سیرک کے قریب کھلے سمندر میں ایک ماہی گیر کشتی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ ماہی گیر ایرانی سمندری حدود کے اندر معمول کے مطابق مچھلیاں پکڑ رہا تھا کہ اچانک اس کی کشتی پر نامعلوم سمت سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کشتی مکمل طور پر سمندر میں ڈوب گئی۔خوش قسمتی سے، جائے وقوعہ کے قریب موجود دوسری ماہی گیر کشتی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ڈوبنے والے زخمی ماہی گیر کو سمندر سے بحفاظت نکال کر ریسکیو کر لیا۔ تاہم، ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا جا سکا کہ یہ حملہ کس ملک، جہاز یا ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔ دوسری جانب، ایران کی سب سے اہم ترین بحری بندرگاہ اور فوجی مرکز کے حامل شہر بندر عباس کے قریب بھی زوردار 2 دھماکے سنے گئے ہیں۔ ان دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی جس سے ساحلی پٹی پر خوف و ہراس پھیل گیا۔ تاحال ایرانی سیکیورٹی فورسز ان دھماکوں کی اصل نوعیت، ہدف اور نقصانات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ان ساحلی دھماکوں اور سیکیورٹی بحران کے فوراً بعد، خلیج کے حساس ترین تجارتی بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایرانی فوج (پاسدارانِ انقلاب یا بحریہ) نے وہاں سے گزرنے والے ایک تجارتی آئل ٹینکر (Oil Tanker) کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے یا اس کی نقل و حرکت معطل کر دی ہے۔

بین الاقوامی بحری مبصرین کے مطابق، بندر عباس اور سیرک کی ساحلی پٹی پر ہونے والے یہ واقعات اور آئل ٹینکر کو روکے جانے کا اقدام خطے میں بحری تجارتی راستوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے، جس کے بعد خلیجِ عمان اور ارد گرد کے سمندری مانیٹرنگ اداروں نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔