LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

ایران اسرائیل کشیدگی پر کینیڈا کا اظہار تشویش، تحمل کا مطالبہ

Web Desk

8 June 2026

اوٹاوا/ٹورنٹو: مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے مابین بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی اور فوجی مہم جوئی پر کینیڈین حکومت نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

کینیڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مروجہ سفارتی بیان میں واضع کیا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ نازک صورتحال عالمی امن اور جاری امن مذاکرات کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

کینیڈین دفترِ خارجہ نے صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پیش کیےکینیڈا کا مینوئل مؤقف ہے کہ موجودہ کشیدگی خطے میں جاری دیگر سفارتی مذاکرات اور طویل المدتی امن کے امکانات کو مکمل طور پر خطرے میں ڈال سکتی ہے۔بیان میں دونوں فریقوں (ایران اور اسرائیل) سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل (Restraint) کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تناؤ میں مزید مینوئل اضافے کا باعث بنیں۔

کینیڈین وزارتِ خارجہ نے جنگی پوزیشن کے مینوئل گائیڈ کے طور پر انسانی حقوق اور شہریوں کی بقا کو اولیت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا”مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس بحران کے دوران عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور پہلے سے طے شدہ تمام تر جنگ بندی کے معاہدوں کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔”

کینیڈا نے اپنے مروجہ مینوئل بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ طاقت کا استعمال یا فوجی کارروائیاں اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہیں۔ کینیڈین حکام کے مطابق، موجودہ بحران کے خاتمے اور حل کے لیے ایک پائیدار، بااعتماد اور مستقل سفارتی راستہ (Diplomatic Path) اختیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ صرف سفارتی مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی خطے میں دیرپا امن، استحکام اور معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے۔