LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹار لنک صارفین کی جاسوسی کا انکشاف، اسرائیلی ایڈ ٹیک کمپنی پر سنگین الزامات امارات میں مصنوعی ذہانت اور جدید فضائی ٹرانسپورٹ کے نئے منصوبوں پر بڑی پیشرفت حوثی ملیشیا کو شکست دینے کیلئے عالمی اتحاد تشکیل دینے کی ضرورت ہے، سعودی عرب سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، تہران میں ہونے والی بات چیت کے نکات کا جائزہ لیا گیا اسرائیل میں انتخابات کیلئے پولنگ کا وقت ختم، ووٹوں کی گنتی جاری اردن میں یمن کا مسافر طیارہ طوفان میں پھنس گیا، ژالہ باری سے شیشے ٹوٹ گئے ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری دیدی امریکی صدر نے ایران سے مذاکرات کو وقت کا ضیاع قرار دے دیا ایران کی شرکت کے بغیر خلیج فارس میں پائیدار سلامتی ناممکن ہے: عمان تیسرا روس افریقہ سربراہی اجلاس آج شروع ہوگا، پوتن سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے گوگل اور یوٹیوب کا بچوں کی آن لائن حفاظت یقینی بنانے کیلئے لاکھوں ڈالرز کا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں افغانستان کی دراندازی، شہری آبادی پر گولا گرنے سے ایک جاں بحق، 5 زخمی امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں عالمی توانائی کی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ایرانی صدر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، ٹیپو عثمان مجتبیٰ خامنہ ای کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنے اور جنگی شرائط پر عملدرآمد پر زور

لبنان کے اسپتال زخمیوں سے بھرگئے، ادویات اورطبی آلات کی قلت سے شدید مشکلات

Web Desk

10 April 2026

لبنان کے دارالحکومت میں حالیہ اسرائیلی حملوں کے بعد اسپتال زخمیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی سہولیات اور ضروری سامان تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

بدھ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات کو چند منٹوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سینکڑوں زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بیروت اسپتال میں ایک گھنٹے کے اندر 70 سے زائد زخمی لائے گئے، جن میں سے کئی جانبر نہ ہو سکے۔

لبنانی وزارت صحت کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں 300 سے زائد افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات عمارتیں گرنے اور دھماکوں کے باعث ہونے والی شدید چوٹوں کی وجہ سے ہوئیں۔

طبی عملے کے مطابق اسپتالوں میں آنے والے شدید زخمیوں میں کمسن بچے بھی شامل ہیں، جن میں چند ماہ کے شیر خوار بچے بھی انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کو تلاش کرتے ہوئے اسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید دلخراش ہو گئی ہے۔

لبنانی ریڈ کراس کے حکام نے اس صورتحال کو “خواب ناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسپتال پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ کام کر رہے تھے، اور اب یہ حملے نظامِ صحت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ کئی اسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی قلت پیدا ہو رہی ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ چند دنوں میں اہم طبی کٹس ختم ہو سکتی ہیں۔