LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف نیویارک: واشنگٹن اسکوائر پارک میں میئر زوہراں ممدانی سے مشابہت رکھنے والوں کے مقابلے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کو 18 برس بیت گئے، متاثرین کے غم آج بھی تازہ

Web Desk

18 February 2026

لاہور/نئی دہلی , سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کو 18 برس بیت گئے مگر متاثرہ خاندانوں کے غم آج بھی تازہ ہیں۔

18 فروری 2007ء کو لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس پر بم حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ٹرین میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس دلخراش واقعے میں 68 افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر پاکستانی شہری شامل تھے۔

جانی نقصان کی تفصیلات

رپورٹس کے مطابق ہریانہ کے شہر پانی پت کے قریب آتشزدگی کے نتیجے میں 43 پاکستانی، 10 بھارتی جبکہ 15 نامعلوم افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 12 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل تھے۔

تحقیقات اور گرفتاریاں

واقعے کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر الزام پاکستانی تنظیموں پر عائد کیا گیا، تاہم بعد ازاں تحقیقات کے دوران شدت پسند ہندو عناصر کے نام سامنے آئے۔ اس سلسلے میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک بعض افراد کی گرفتاری عمل میں آئی۔

اسی تناظر میں بھارتی فوج کے افسر لیفٹیننٹ کرنل پروہت کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ مقدمے کی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کے حوالے سے مختلف ادوار میں متضاد قانونی پیش رفت سامنے آتی رہی ہے۔

متاثرین کو انصاف کا انتظار

سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کو پاک-بھارت تعلقات کی تاریخ کے ایک افسوسناک باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 18 سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان آج بھی مکمل انصاف کے منتظر ہیں اور یہ واقعہ خطے میں امن و امان اور باہمی اعتماد کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان سمجھا جاتا ہے۔