LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کابینہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، پی این ایس سی بورڈ کو مضبوط بنانے پر اتفاق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 59 روپے تک کمی ہوگی: اسحاق ڈار امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی پر اسلام آباد میں ‘آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش’ کا انعقاد؛ پاک آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا فلسطین پر مشترکہ مذمتی اعلامیہ جاری وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی ایران امریکا معاہدہ: قومی اسمبلی میں اظہار تشکر کی قرارداد منظور پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان

ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ کن وار: قانونی تارکین وطن کو چھوٹے کاروباری قرضوں سے روک دیا گیا

Web Desk

5 February 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر امریکی شہریوں کے لیے چھوٹے کاروباری مواقع محدود کرتے ہوئے اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) کے بنیادی ۷(اے) لون پروگرام سے تمام غیر امریکی شہریوں اور قانونی مستقل رہائشیوں کو خارج کر دیا ہے۔

SBA نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے وہ استثنا بھی ختم کر دیا ہے جس کے تحت غیر شہری یا گرین کارڈ ہولڈرز چھوٹے کاروباروں میں جزوی ملکیت رکھ سکتے تھے۔ اب قانونی مستقل رہائشی اس پروگرام کے تحت کسی بھی کاروبار میں کسی بھی شرح سے ملکیت نہیں رکھ سکیں گے، جس کے لیے وہ اب تک SBA قرضوں کے اہل تھے۔

SBA کی ترجمان کے مطابق ایجنسی اب غیر ملکی شہریوں کی ملکیت والے کاروباروں کے لیے قرضوں کی ضمانت نہیں دے گی، تاکہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ امریکی ملازمتوں اور صنعت کاروں کی فلاح میں استعمال ہو۔

تاہم اس فیصلے پر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کا حصول اور بھی زیادہ مشکل ہو جائے گا اور محنتی قانونی تارکینِ وطن متاثر ہوں گے، جو ہمیشہ سے امریکی کاروباری نظام کا اہم حصہ رہے ہیں۔