LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا: ہارون اختر خان معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی میت 31 دن بعد فلک سیر کی چوٹی سے تلاش کرلی گئی آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی: پاور ڈویژن پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت اور جی 20 کا حصہ بنانا ہدف ہے: اسحاق ڈار پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر توہین برداشت نہیں کریں گے،ایران کا امریکا کو پیغام

Web Desk

8 November 2025

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا اور امن کو ترجیح دیتا ہے، تاہم بین الاقوامی توہین اور دفاع کے حق سے محروم کرنا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر پزشکیان نے گزشتہ دنوں تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کو یہ واضح پیغام دیا۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ اگر کوئی منطقی اور سنجیدہ بات کرے تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ کہنا کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق نہیں ہے یا دھمکی آمیز الفاظ مثلاً “زیادہ بات کرو گے تو ہم بم ماریں گے” جیسی زبان قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی زندگی ایران گزارنا نہیں چاہتا۔
صدر نے مزید تنقید کی کہ امریکہ اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے جبکہ ایران کو اپنے دفاع کے جواز سے محروم رکھنے کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ ان کے بقول یہ ڈبل اسٹینڈرڈ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایران اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کروائے گا۔
تہران میں دیے گئے اس پیغام میں صدر پزشکیان نے امن کے لیے کھلے دروازے برقرار رکھنے اور مذاکرات کی آمادگی پر زور دیا مگر ساتھ ہی ملک کی سکیورٹی اور قومی وقار کے دفاع کا عزم دہرایا۔ مبصرین کے مطابق یہ کڑا بیان علاقائی کشیدگی اور تہران کی بین الاقوامی سفارتی پوزیشن کو واضح کرنے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے۔