LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وزیر خارجہ آج عمان کا دورہ، خطے کی بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے پاکستان کا حالیہ کشیدگی پر اظہار تشویش، فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے پر زور امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست نہیں کی: ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا ایران امریکا مذاکرات کا نیا دور، امریکی نیوز ویب سائٹ کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا امریکا کیساتھ تنازع ایران کے ہتھیار ڈالنے سے کبھی ختم نہیں ہوگا، باقر قالیباف پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک، 2050 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ وزیراعظم شہباز شریف کا امیر قطر سے رابطہ، حملوں کے تناظر میں عوام کیساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار میرا قتل ہوا تو ایران پر غیرمعمولی بمباری کی جائے گی۔ ٹرمپ چین کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کردیں ترکیہ نے نیتن یاہو حکومت کو بین الاقوامی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں ہورہی ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان شہر قائد میں افغانیوں کو غیر قانونی قومی شناختی کارڈ بنا کر دینے والا نیٹ ورک پکڑا گیا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ایران ظلم، دباؤ یا دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا: باقر قالیباف

ابوظہبی میں امریکا روس مذاکرات؛ یوکرینی صدر کی امن منصوبے پر آمادگی

Web Desk

25 November 2025

ابوظہبی: امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر ابوظہبی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں گزشتہ کئی ماہ میں سب سے نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے پیر اور منگل کو ابوظہبی میں روسی وفد سے ملاقاتیں کیں، جب کہ آج بھی ایک اور ملاقات متوقع ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاہم ان مذاکرات کی نہ تصدیق کی ہے نہ تردید۔

ادھر رائٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا کے امن منصوبے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور متنازع نکات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ امن مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔

یوکرینی صدر نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ امن کے لیے فریم ورک موجود ہے اور یوکرین اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس عمل میں امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، البتہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ اسے روسی شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر مجبور نہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے “ہم بہت قریب آ چکے ہیں” اور یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رستم عمرُوف نے بتایا کہ صدر زیلنسکی جلد امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن معاہدے کے حتمی نکات پر بات چیت کی جا سکے، تاہم امریکی حکام نے ابھی اس دورے کی تصدیق نہیں کی۔

اس سفارتی سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ابوظہبی میں امریکا اور روس کے درمیان دو روزہ مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔