LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کا علاقائی و عالمی صورتحال کے تناظر میں اہم اجلاس آج طلب شرح سود برقرار رہے گی یا بڑھے گی؟ نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی تشکیل دے دی تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی امن کے لیے چھوٹی قربانی ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 9700 پوائنٹس کی کمی، ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اسرائیل پر میزائل حملے، لبنان میں جھڑپیں، کئی شہری شہید ایرانی حملوں میں 13 اسرائیلی ہلاک، 1,929 زخمی: اعداد و شمار جاری پاک افغان کشیدگی :چین متحرک، نمائندہ کابل روانہ ایران اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ، ڈرون واقعے پر گفتگو ایران کی مسلح افواج نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا عہد کر لیا امریکا نے سعودی عرب میں سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلانے کا حکم دے دیا خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی بچت کی وفاقی تجاویز پر اتفاق کر لیا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کردیا گیا

ابوظہبی میں امریکا روس مذاکرات؛ یوکرینی صدر کی امن منصوبے پر آمادگی

Web Desk

25 November 2025

ابوظہبی: امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر ابوظہبی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں گزشتہ کئی ماہ میں سب سے نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے پیر اور منگل کو ابوظہبی میں روسی وفد سے ملاقاتیں کیں، جب کہ آج بھی ایک اور ملاقات متوقع ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاہم ان مذاکرات کی نہ تصدیق کی ہے نہ تردید۔

ادھر رائٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا کے امن منصوبے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور متنازع نکات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ امن مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔

یوکرینی صدر نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ امن کے لیے فریم ورک موجود ہے اور یوکرین اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس عمل میں امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، البتہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ اسے روسی شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر مجبور نہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے “ہم بہت قریب آ چکے ہیں” اور یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رستم عمرُوف نے بتایا کہ صدر زیلنسکی جلد امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن معاہدے کے حتمی نکات پر بات چیت کی جا سکے، تاہم امریکی حکام نے ابھی اس دورے کی تصدیق نہیں کی۔

اس سفارتی سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ابوظہبی میں امریکا اور روس کے درمیان دو روزہ مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔