LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

ابوظہبی میں امریکا روس مذاکرات؛ یوکرینی صدر کی امن منصوبے پر آمادگی

Web Desk

25 November 2025

ابوظہبی: امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر ابوظہبی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں گزشتہ کئی ماہ میں سب سے نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے پیر اور منگل کو ابوظہبی میں روسی وفد سے ملاقاتیں کیں، جب کہ آج بھی ایک اور ملاقات متوقع ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاہم ان مذاکرات کی نہ تصدیق کی ہے نہ تردید۔

ادھر رائٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا کے امن منصوبے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور متنازع نکات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ امن مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔

یوکرینی صدر نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ امن کے لیے فریم ورک موجود ہے اور یوکرین اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس عمل میں امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، البتہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ اسے روسی شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر مجبور نہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے “ہم بہت قریب آ چکے ہیں” اور یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رستم عمرُوف نے بتایا کہ صدر زیلنسکی جلد امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن معاہدے کے حتمی نکات پر بات چیت کی جا سکے، تاہم امریکی حکام نے ابھی اس دورے کی تصدیق نہیں کی۔

اس سفارتی سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ابوظہبی میں امریکا اور روس کے درمیان دو روزہ مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔