LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

ابوظہبی میں امریکا روس مذاکرات؛ یوکرینی صدر کی امن منصوبے پر آمادگی

Web Desk

25 November 2025

ابوظہبی: امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے معاملے پر ابوظہبی میں اہم مذاکرات جاری ہیں، جنہیں گزشتہ کئی ماہ میں سب سے نمایاں سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے پیر اور منگل کو ابوظہبی میں روسی وفد سے ملاقاتیں کیں، جب کہ آج بھی ایک اور ملاقات متوقع ہے۔ برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ یوکرین کی ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے تاہم ان مذاکرات کی نہ تصدیق کی ہے نہ تردید۔

ادھر رائٹرز کے مطابق یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا کے امن منصوبے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی فریم ورک کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں اور متنازع نکات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست بات چیت کریں گے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ امن مذاکرات میں یورپی اتحادیوں کی شمولیت ضروری ہے تاکہ کوئی فیصلہ یوکرین یا یورپ کے مفاد کے خلاف نہ ہو۔

یوکرینی صدر نے اتحادی ممالک کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ امن کے لیے فریم ورک موجود ہے اور یوکرین اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس عمل میں امریکی صدر کی ذاتی شمولیت ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی اور یوکرینی مذاکرات کار اختلافات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، البتہ یوکرین کو خدشہ ہے کہ اسے روسی شرائط کے مطابق کسی معاہدے پر مجبور نہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے سے “ہم بہت قریب آ چکے ہیں” اور یہ عمل جلد مکمل ہو سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین کے قومی سلامتی مشیر رستم عمرُوف نے بتایا کہ صدر زیلنسکی جلد امریکا کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ امن معاہدے کے حتمی نکات پر بات چیت کی جا سکے، تاہم امریکی حکام نے ابھی اس دورے کی تصدیق نہیں کی۔

اس سفارتی سلسلے میں اتوار کو جنیوا میں امریکی اور یوکرینی مذاکرات کاروں کی ملاقات کے بعد ابوظہبی میں امریکا اور روس کے درمیان دو روزہ مذاکرات کو خطے میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔