LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی آئینی عدالت: بشریٰ بی بی سزا معطلی کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ ایران پر زمینی حملہ امریکی فوج کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا: مشیر اعلیٰ کمانڈر انچیف پاسداران انقلاب پاکستان کو اکتوبر میں پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ کوئٹہ کے بلوچ ٹریننگ ونگ میں بیسک ملٹری ٹریننگ 22 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ایگزیوس کا ایران کیخلاف فوجی آپریشن پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں بات چیت کا دعویٰ وزیراعظم سے مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکرٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی سلامتی پر گفتگو سعودیہ کا ریاض اور جنوبی علاقے میں 3 میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ ملک بھر میں ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری ڈی آئی خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی چین کا مشرق وسطیٰ میں جامع جنگ بندی کیلئے تعمیری کردار جاری رکھنے کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آج ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کا امکان مغربی انٹیلی جنس ڈیٹا نہ ملنے پر یوکرینی فضائی دفاع روسی میزائلوں کا بروقت سراغ نہ لگا سکا امریکی صدر ٹرمپ کا اردگان سے حوثیوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کا عندیہ بلغاریہ کے ساحل کے قریب ڈرون حملے میں مال بردار جہاز ڈوب گیا، 11 ملاح لاپتہ

مغربی انٹیلی جنس ڈیٹا نہ ملنے پر یوکرینی فضائی دفاع روسی میزائلوں کا بروقت سراغ نہ لگا سکا

Web Desk

14 October 2026

یوکرینی فضائیہ نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ مغربی اتحادیوں اور شراکت داروں کی جانب سے ضروری انٹیلی جنس معلومات بروقت موصول نہ ہونے کی وجہ سے یوکرین کا ایئر ڈیفنس سسٹم روسی بیلسٹک میزائلوں کی پرواز کا بروقت سراغ لگانے اور انہیں فضا ہی میں تباہ کرنے میں ناکام رہا۔

یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری اگنات (Yuri Ignat) نے بتایا کہ مغربی شراکت داروں سے انٹیلی جنس ڈیٹا کی ترسیل میں تاخیر تکنیکی وجوہات کے باعث ہوئی اور اس نوعیت کا واقعہ پہلے بھی پیش آ چکا ہے۔ ان کے مطابق، 12 اکتوبر کی شام کیف پر روسی حملے کے دوران فضائی خطرے کا سائرن بجنے سے پہلے ہی دھماکے شروع ہو گئے تھے اور یوکرینی ریڈار نے اہداف کی شناخت حملے کے دوران خود کی۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے انٹیلی جنس کے بروقت تبادلے کو ملک کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔

دوسری جانب، یوکرین کے انسدادِ گمراہ کن اطلاعات کے مرکز نے انٹیلی جنس ڈیٹا کی معطلی کے امکانات کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ پولیٹیکو اور فنانشل ٹائمز جیسی بین الاقوامی مطبوعات نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے انٹیلی جنس شیئرنگ اور اسٹار لنک (Starlink) سروسز معطل کرنے کی دھمکیوں سے متعلق رپورٹس شائع کی تھیں، تاہم یوکرینی وزیرِ خارجہ آندرے سیبیگا (Andrii Sybiha) اور یورپی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بدستور جاری ہے اور تعاون کی منسوخی کی کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔