LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف ‘ہر شہری سے قربانی کی توقع کی جائے گی’، برطانوی فوج کے سربراہ نے جنگ کے خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کا فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر حملہ سکیورٹی فورسز کا چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک سعودیہ کو حوثیوں کیخلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہئے: صدر ٹرمپ کا مشورہ پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے، آزاد فلسطین کیلئے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ آسٹریلیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، دو افراد ہلاک یورپی یونین کے سیٹلائٹ منصوبے کے منظوری کیلئے شراکت داروں کیساتھ مذاکرات جی سیون کا 44 ممالک میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کیلئے 2.5 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان چین کا مسئلہ فلسطین کے دو ریستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان سیکا اجلاس: اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ امریکی ریاست اوریگون کے سکول میں فائرنگ، 4 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج ایران کی سعودیہ اور یمن میں اختلافات ختم کرانے کیلئے سفارتی کردار ادا کرنیکی پیشکش قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا لبنان کی حمایت کا عزم

یو اے ای یمن میں عسکری یا مالی معاونت کا عمل فوری بند کرے: سعودی عرب

Web Desk

30 December 2025

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فوری طور پر بند کرے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کے امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای کی جانب سے یمنی جنوبی عبوری کونسل (STC) پر دباؤ ڈال کر کارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے، اور یہ اقدام سعودی قومی سلامتی، جمہوریہ یمن کے امن اور پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات یمنی حکومت کی حمایت کے لیے قائم عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو ریڈ لائن سمجھا جائے گا اور اس کے سدباب کے لیے ضروری اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے یمن کی صدارتی قیادت کونسل (PLC) اور اس کی حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یمن کے امن، استحکام اور خودمختاری کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یمن کے جنوبی مسئلے کے تاریخی اور سماجی پہلو موجود ہیں اور اس کا حل جامع سیاسی عمل اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے، جن میں جنوبی عبوری کونسل سمیت تمام یمنی فریقین شامل ہوں۔ سعودی عرب نے ایک بار پھر یو اے ای سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی حکومت کے مطالبے کے مطابق 24 گھنٹوں میں اپنی فوج واپس بلائے اور کسی بھی قسم کی عسکری یا مالی معاونت بند کرے۔

سعودی عرب کے مطابق دانشمندی، اخوت اور حسنِ ہمسائیگی کو ترجیح دی جائے گی اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو اولین حیثیت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے یو اے ای کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔