LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
غزہ میں مظالم پر دستاویزی فلم کی اسرائیل میں پذیرائی، نیتن یاہو برہم بانی پی ٹی آئی سے کل ملاقات کرنے والوں کے نام جیل حکام کو ارسال سوات میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی سمیت 200 افراد کیخلاف مقدمہ درج کے پی اور بلوچستان کا کوئی موازنہ نہیں، وفاق کے آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی کے پی اور بلوچستان کا کوئی موازنہ نہیں، وفاق کے آئینی اقدام کی حمایت کرتے ہیں: سرفراز بگٹی میرپورخاص ڈویژن کے تین اضلاع میں 15 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ روپیہ مستحکم، انٹربینک میں ڈالر مزید 3 پیسے سستا ہوگیا یانڈیکس ڈیٹا سینٹرز پر غیر معمولی ڈرون حملے، روس نے حفاظتی اقدامات پر غور شروع کردیا پاکستان اور قطر ثالثی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی مریم نواز نے سوشل سکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا روس سے تیل کی رسد بڑھنے کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں قیمتیں کم امریکا نے ایران کی کچھ شرائط مان لی ہیں: محسن رضائی کا دعویٰ اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی منتقل چاند نظر آگیا، پاکستان میں کل یکم جمادی الاول ہوگی صوبے کو انتشار نہیں خدمت کی ضرورت ہے، مریم نواز کی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید

ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قربت نے پاک امریکا تعلقات کو نئی جہت دی، فارن پالیسی کا اعتراف

Web Desk

25 December 2025

امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں پاکستان کو نمایاں کامیاب جبکہ بھارت کو ناکام ملک قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز کے بعد پاکستان نے واشنگٹن میں خاموش مگر مؤثر اسٹریٹجک کم بیک کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ فارن پالیسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وہ اعتماد اور براہِ راست رسائی حاصل کی جو کئی قریبی امریکی اتحادی بھی حاصل نہ کر سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے ایک بڑے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار نے ٹرمپ انتظامیہ کو فوری سفارتی کامیابی دی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔ اس کے بعد امریکا نے پاکستان کو دوبارہ ایک قابل اعتماد اور مؤثر شراکت دار کے طور پر دیکھا۔

فارن پالیسی کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ کے “ٹرانزیکشنل” خارجہ پالیسی ماڈل کے تحت عملی اور نتیجہ خیز سفارت کاری کی، جس میں کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات اور تجارتی معاملات پر تعاون اور ممکنہ معاہدوں پر بات چیت شامل رہی۔