LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران یمن میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنا بند کرے: جی 7 ممالک کا مشترکہ بیان اسحاق ڈار کا فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتماد سیاسی عمل پر زور پاکستان اور لیبیا کے درمیان تجارت، تعلیم اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق راولپنڈی: علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاجی کیس کا ٹرائل مکمل، فیصلہ 25 ستمبر کو سنایا جائے گا اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی کی درخواستِ ضمانت واپس، جیل حکام کو 24 ستمبر کے لیے نوٹس جاری ایرانی صدر نیویارک روانہ، عالمی برادری تک ایران کا پیغام پہنچانے کا عزم پی ٹی آئی کو اسلام آباد آکر امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: عطا تارڑ بغیر پائلٹ کے مسافر طیارے نے پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کرلی اقوام متحدہ نے ایران جنگ ختم کرانے کیلئے پاکستان سے رابطے کی تصدیق کردی قوم کی حمایت سے دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل کرتارپور میں بابا گورو نانک کی 487ویں برسی کی تین روزہ تقریبات کا آخری روز این سی سی آئی اے کی غیرقانونی کال سینٹر پر کارروائی،17 غیر ملکیوں سمیت 100 افراد زیر حراست کوہاٹ پولیس لائنز حملے میں 869 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا: بم ڈسپوزل رپورٹ اسحاق ڈار کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں، اسلام آباد یادداشت پر عمل درآمد پر زور امریکا کے بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کا ٹرمپ کی کوریج پر پابندی کا فیصلہ

ٹرمپ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے قربت نے پاک امریکا تعلقات کو نئی جہت دی، فارن پالیسی کا اعتراف

Web Desk

25 December 2025

امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی خارجہ پالیسی کے تناظر میں پاکستان کو نمایاں کامیاب جبکہ بھارت کو ناکام ملک قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت کے آغاز کے بعد پاکستان نے واشنگٹن میں خاموش مگر مؤثر اسٹریٹجک کم بیک کیا، جس کے نتیجے میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔ فارن پالیسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے وہ اعتماد اور براہِ راست رسائی حاصل کی جو کئی قریبی امریکی اتحادی بھی حاصل نہ کر سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے ایک بڑے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری میں پاکستان کے کردار نے ٹرمپ انتظامیہ کو فوری سفارتی کامیابی دی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی۔ اس کے بعد امریکا نے پاکستان کو دوبارہ ایک قابل اعتماد اور مؤثر شراکت دار کے طور پر دیکھا۔

فارن پالیسی کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ کے “ٹرانزیکشنل” خارجہ پالیسی ماڈل کے تحت عملی اور نتیجہ خیز سفارت کاری کی، جس میں کرپٹو کرنسی، اہم معدنیات اور تجارتی معاملات پر تعاون اور ممکنہ معاہدوں پر بات چیت شامل رہی۔