ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں
Web Desk
10 January 2026
نارویجن نوبل انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبل امن انعام کو کسی اور کو منتقل، تقسیم یا واپس نہیں لیا جا سکتا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا مچاڈو نے کہا تھا کہ وہ 2025 کا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں۔
تاہم نوبل کمیٹی کے قوانین کے مطابق امن انعام دینے کا فیصلہ حتمی اور مستقل ہوتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی اپیل ممکن نہیں ہے۔ کمیٹی انعام ملنے کے بعد انعام یافتگان کے اقدامات یا بیانات پر تبصرہ نہیں کرتی۔
نارویجن نوبل انسٹی ٹیوٹ نے مزید کہا کہ ایک بار انعام کا اعلان ہونے کے بعد اسے واپس نہیں لیا جا سکتا، نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گا۔
پچھلے دنوں مچاڈو نے کہا تھا کہ ٹرمپ کو انعام دینا وینزویلا کے عوام کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی برطرفی پر اظہار تشکر ہوگا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا واقعی ٹرمپ کو پیشکش کی گئی، تو مچاڈو نے کہا کہ ابھی ایسا نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے طویل عرصے سے نوبل امن انعام جیتنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اسے اپنی سفارتی کامیابیوں سے جوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران مچاڈو یہ انعام پیش کریں، تو وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔
متعلقہ عنوانات
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان
19 June 2026
خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا
19 June 2026
لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ
19 June 2026
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا
19 June 2026
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی
18 June 2026
امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی
18 June 2026
مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن
18 June 2026
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ
18 June 2026