LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات

ٹرمپ کی نوبل امن انعام کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں

Web Desk

10 January 2026

نارویجن نوبل انسٹیٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبل امن انعام کو کسی اور کو منتقل، تقسیم یا واپس نہیں لیا جا سکتا۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریہ کورینا مچاڈو نے کہا تھا کہ وہ 2025 کا نوبل امن انعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینا چاہتی ہیں۔

تاہم نوبل کمیٹی کے قوانین کے مطابق امن انعام دینے کا فیصلہ حتمی اور مستقل ہوتا ہے، اور اس کے خلاف کوئی اپیل ممکن نہیں ہے۔ کمیٹی انعام ملنے کے بعد انعام یافتگان کے اقدامات یا بیانات پر تبصرہ نہیں کرتی۔

نارویجن نوبل انسٹی ٹیوٹ نے مزید کہا کہ ایک بار انعام کا اعلان ہونے کے بعد اسے واپس نہیں لیا جا سکتا، نہ بانٹا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ کے لیے برقرار رہے گا۔

پچھلے دنوں مچاڈو نے کہا تھا کہ ٹرمپ کو انعام دینا وینزویلا کے عوام کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی برطرفی پر اظہار تشکر ہوگا۔ جب پوچھا گیا کہ کیا واقعی ٹرمپ کو پیشکش کی گئی، تو مچاڈو نے کہا کہ ابھی ایسا نہیں ہوا۔

ٹرمپ نے طویل عرصے سے نوبل امن انعام جیتنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور اسے اپنی سفارتی کامیابیوں سے جوڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات کے دوران مچاڈو یہ انعام پیش کریں، تو وہ اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔