LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈی آئی خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی چین کا مشرق وسطیٰ میں جامع جنگ بندی کیلئے تعمیری کردار جاری رکھنے کا اعلان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آج ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کا امکان مغربی انٹیلی جنس ڈیٹا نہ ملنے پر یوکرینی فضائی دفاع روسی میزائلوں کا بروقت سراغ نہ لگا سکا امریکی صدر ٹرمپ کا اردگان سے حوثیوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کا عندیہ بلغاریہ کے ساحل کے قریب ڈرون حملے میں مال بردار جہاز ڈوب گیا، 11 ملاح لاپتہ مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کے پھیپھڑوں کی کامیابی سرجری حزب اللہ کا جنگ میں تباہ گھروں کے مالکان کیلئے 14 ہزار ڈالر امداد کا اعلان فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، پولیس کیساتھ جھڑپیں، مزید کئی مظاہرین گرفتار ایرانی کمانڈر کا اردن میں حملے کے دوران 200 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے انڈونیشی پائلٹ کی شہریت پر اسرائیل نے ایتھوپین ایئرلائنز کا کارگو طیارہ واپس بھیج دیا مصر کی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے تناظر میں ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی شمالی کوریا کے لیپ ٹاپ فراڈ نیٹ کیخلاف کارروائی، 2 امریکی شہری گرفتار

شام نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق ایک لاکھ سے زائد سرکاری دستاویزات عالمی ادارے کے حوالے کر دیں

Web Desk

14 October 2026

شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے انکشاف کیا ہے کہ شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم ‘او پی سی ڈبلیو’ (OPCW) کو 1 لاکھ سے زائد اہم سرکاری دستاویزات فراہم کر دی ہیں، جن میں سابق صدر بشار الاسد کے دورِ حکومت میں پوشیدہ رکھی گئی کیمیائی تنصیبات، ذخیرہ گاہوں اور ممنوعہ اسلحے کی تفصیلی معلومات شامل ہیں۔

اسعد الشیبانی نے بتایا کہ شام نے گزشتہ حکومت سے ورثے میں ملنے والے کیمیائی ہتھیاروں کے باضابطہ اعلامیے میں بنیادی اصلاحات کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ او پی سی ڈبلیو کی براہِ راست نگرانی میں 42 کیمیائی فضائی بم کامیابی سے تلف کیے جا چکے ہیں۔ شامی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ شام نے 9 جولائی کو کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (OPCW) میں اپنے معطل شدہ حقوق اور مراعات دوبارہ حاصل کر لیے تھے اور اب کیمیائی پروگرام سے جڑے تمام مابقی تنازعات کے حل کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ میدانِ جنگ میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں اور تباہ شدہ تنصیبات کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معائنہ کاری اور تحقیقات میں تاحال بڑی رکاوٹیں ہیں، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر دستاویزات کی فراہمی اور شفافیت کا مقصد ماضی کے متنازع کیمیائی پروگرام کے تمام باب بند کر کے عالمی برادری کے خدشات کو دور کرنا ہے۔