اربوں ڈالر کے دفاعی اخراجات کے باوجود سعودی عرب کو حوثی حملے روکنے میں مشکلات
Web Desk
14 October 2026
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے دفاعی شعبے پر اربوں ڈالر کے بھاری اخراجات اور پیٹریاٹ (Patriot) و تھاڈ (THAAD) جیسے انتہائی جدید فضائی دفاعی نظاموں کی موجودگی کے باوجود یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے جانے والے میزائل اور ڈرون حملوں کو مکمل طور پر روکنا ایک بڑا اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔
سپری (SIPRI) کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ سال اپنے دفاعی شعبے پر 83 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی، تاہم بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور کم ڈرونز کے بیک وقت یا مختلف سمتوں سے کیے جانے والے مربوط حملوں (Saturation Attacks) کے باعث سعودی ایئر ڈیفنس پر غیر معمولی دباؤ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کا وسیع جغرافیائی رقبہ، ہوائی اڈوں اور تیل و توانائی کی حساس تنصیبات کی دیکھ بھال، اور امریکی اسلحے کی رسد پر بڑھتا ہوا عالمی دباؤ سعودی دفاعی منصوبہ بندی میں اہم رکاوٹیں ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے فضائی دفاع کی حقیقی مؤثریت کا انحصار صرف بھاری دفاعی اخراجات پر نہیں، بلکہ جدید ترین رڈار و نگرانی کے نظام، مختلف ملٹری پلیٹ فارمز کے باہمی انضمام اور مسلسل بدلتی ہوئی خطرات کی نوعیت سے نمٹنے کی تکنیکی صلاحیت پر ہوتا ہے، جس کے لیے مملکت کو ہمہ وقت الرٹ رہنا پڑے گا۔
متعلقہ عنوانات
ملک بھر میں ہندو برادری کا مذہبی تہوار نوراتری جوش و خروش سے جاری
14 October 2026
ڈی آئی خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی
14 October 2026
چین کا مشرق وسطیٰ میں جامع جنگ بندی کیلئے تعمیری کردار جاری رکھنے کا اعلان
14 October 2026
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
14 October 2026
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں آج ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کا امکان
14 October 2026
مغربی انٹیلی جنس ڈیٹا نہ ملنے پر یوکرینی فضائی دفاع روسی میزائلوں کا بروقت سراغ نہ لگا سکا
14 October 2026
امریکی صدر ٹرمپ کا اردگان سے حوثیوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کا عندیہ
14 October 2026
بلغاریہ کے ساحل کے قریب ڈرون حملے میں مال بردار جہاز ڈوب گیا، 11 ملاح لاپتہ
14 October 2026