LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سپریم کورٹ میں 1818 لیگل کال سینٹر کا افتتاح، اب گھر بیٹھے مفت قانونی مشورہ حاصل کریں مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر10.88 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں تھائی لینڈ کی ملکہ نے جنگی طیارہ اُڑا کر تاریخ رقم کردی؛ دلچسپ ویڈیو وائرل وزیراعلیٰ کے پی نے لانگ مارچ کا اگلا لائحہ عمل دے دیا، 11 اکتوبر کو صوابی پہنچنے کا اعلان روس سے ڈیزل خریدنے کا معاہدہ جنگ لمبی کرنے کیلئے سرمایہ کاری ہے، زیلنسکی ایلون مسک کا مکیش امبانی پر شدید طنز: “پرائم منسٹر امبانی! معذرت کہ سمجھ نہ سکا آپ ہی بھارت کے اصل مالک ہیں اے آئی نے امریکا میں نقل کا بحران سنگین کر دیا، 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹ چیٹ بوٹ سے لکھوانے لگے ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کو قتل کرنا سنگین غلطی تھی: سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسرائیل یورپی ممالک کا لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی کی حمایت کا اعلان نیپال میں سکول بس حادثے کا شکار، 4 طلبہ سمیت 5 افراد ہلاک، 14 زخمی امریکا کو کیوبا کیساتھ ایندھن اور دیگر اشیاء کی تجارت محدود کرنے کا حق نہیں: برونو روڈریگز میکسیکو کی جیل میں قیدیوں کے درمیان جھڑپ، بچے سمیت 10افراد ہلاک، 16 زخمی ٹرمپ نے ایران کے مسئلے کے حل میں روس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا، کریملن دہشت گردی کے خلاف ہر قربانی دینے کو تیار ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حوثیوں کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان

روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد

Web Desk

9 October 2026

روس کے علاقے ارکتسک میں 28 سالہ لیبارٹری محقق داریا شیپیلووا کی شدید نمونیا کے باعث پراسرار ہلاکت کے بعد عالمی میڈیا میں طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے سے متعلق سنسنی خیز خبروں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم دستیاب طبی ٹیسٹ اور سرکاری حقائق فی الحال ان دعووں کی مکمل نفی کرتے ہیں۔ داریا شیپیلووا ارکتسک کے انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے میں ملازم تھیں، جس کی بنیاد پر مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ لیبارٹری میں خطرناک جراثیم (Yersinia pestis) کی شیشی ٹوٹنے سے یہ سانحہ پیش آیا۔

روسی صحت عامہ کے نگران ادارے “روسپوتریب نادزور” (Rospotrebnadzor) اور تحقیقاتی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ لیبارٹری میں سیکیورٹی کی خلاف ورزی یا شیشی ٹوٹنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر 200 سے زائد افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا اور 5,000 کے قریب ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے کسی میں بھی طاعون يا مہلک جرثومے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے بھی واقعے کی معلومات طلب کرتے ہوئے روس سے باہر کسی وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کو انتہائی کم قرار دیا ہے۔