LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیپال میں سکول بس حادثے کا شکار، 4 طلبہ سمیت 5 افراد ہلاک، 14 زخمی امریکا کو کیوبا کیساتھ ایندھن اور دیگر اشیاء کی تجارت محدود کرنے کا حق نہیں: برونو روڈریگز میکسیکو کی جیل میں قیدیوں کے درمیان جھڑپ، بچے سمیت 10افراد ہلاک، 16 زخمی ٹرمپ نے ایران کے مسئلے کے حل میں روس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا، کریملن دہشت گردی کے خلاف ہر قربانی دینے کو تیار ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حوثیوں کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اعلان ڈائیلاگ کے سوا کوئی حل نہیں، مذاکرات کیلئے آئیں، طاقت سے آپ کچھ نہیں منوا سکتے: ملک احمد خان مودی سرکار نے احتجاج روکنے کیلئے دہلی کو مقبوضہ علاقہ بنا دیا، جگہ جگہ فوج تعینات سہیل آفریدی کا مارچ ٹھس، بس تاریخ پر تاریخ دے رہے ہیں: امیر مقام مارچ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور تمام جائز مطالبات تسلیم ہونے تک جاری رہے گا: شوکت یوسفزئی فرانس کی ایران کیلئے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت دوہرا معیار ہے: اسماعیل بقائی ایمرجنسی سے متعلق غور و خوض مکمل ہوگیا، ایمرجنسی 12 اضلاع میں نہیں، پورے صوبے میں لگےگی: طارق فضل فلائی دبئی واقعہ کا ملزم اسرائیلی بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا: اماراتی اٹارنی جنرل ٹرمپ نے کیٹی زکریا کو وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری نامزد کردیا: امریکی اخبار پاکستان کا امریکا اور ایران کے درمیان 7 نکات پر مذاکرات جاری ہونے کا انکشاف

فرانس کی ایران کیلئے جوہری ہتھیاروں کی مخالفت دوہرا معیار ہے: اسماعیل بقائی

Web Desk

9 October 2026

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے پیرس انتظامیہ کے رویے کو “دہرے معیار” کا عکاس قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس خود جوہری ہتھیاروں کو اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت مانتا ہے، لیکن جب وہی منطق دیگر ممالک یا ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے تو اسے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ تہران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اس کی عسکری ڈoctrine میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی جگہ ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ چند ایٹمی طاقتوں کی جانب سے عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) اور جوہری ردِعمل کی اجارہ داری عالمی امن کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک پائیدار بین الاقوامی نظام وہی ہو سکتا ہے جس میں تمام ممالک کی سلامتی اور تحفظ کے بنیادی حق کو تسلیم کیا جائے، نہ کہ طاقتور ممالک کی بالادستی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔