LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

بریڈفورڈ احتجاج پر پاکستان کا سخت ردعمل، برطانوی ڈپٹی ہیڈ آف مشن کو وزارت خارجہ طلب کر کے ڈیمارش

Web Desk

26 December 2025

اسلام آباد: بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج پر پاکستان نے سخت سفارتی ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو وزارت خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

ذرائع کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھیں، جس کے باعث وزارت خارجہ نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو طلب کر کے ڈیمارش جاری کیا۔ ڈیمارش میں برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر ہونے والے احتجاج پر شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو برطانیہ میں مظاہرین کو جمع کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ مظاہرین نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز، توہین آمیز اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ احتجاج کے دوران فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے کی کھلی دھمکیاں دی گئیں اور انہیں کار بم دھماکے میں قتل کرنے کے نعرے لگائے گئے۔

حکومتِ پاکستان نے برطانیہ کی سرزمین سے دی جانے والی ان سنگین دھمکیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ برطانوی حکومت ایسے شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کرے گی اور انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین نے بھی برطانوی قائم مقام ہیڈ آف مشن کو ڈیمارش جاری کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔