LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی پر غور، مشرقِ وسطیٰ میں امریکیوں کیلئے الرٹ شمالی کوریا کا عالمی دباؤ کے باوجود جوہری پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کل پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس طلب کر لیا افغانستان میں موجود دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں: طاہر اشرفی روس میں پارلیمانی انتخابات آخری مرحلے میں داخل، ٹرن آؤٹ 50 فیصد سے تجاوز ایران کی امریکا اور علاقائی اتحادیوں کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت

لامرد میں امریکی حملے کے نشانات آج بھی موجود ہیں،اسماعیل بقائی

Web Desk

14 September 2026

تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ شہر ’لامرد‘ پر لاک ہیڈ مارٹن کے کلسٹر میزائلوں سے کیے گئے حملے کے تمام تر ثبوت اور شواہد کو قانونی طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے، جنہیں عالمی اداروں میں ذمہ داروں کے احتساب اور انصاف کے حصول کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ایک جاری کردہ پریس بریفنگ میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ لامرد پر کیے گئے اس المناک حملے کے اثرات نہ صرف شہر کی عمارتوں، دیواروں اور سڑکوں پر واضح ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں اور معصوم شہریوں کے ذہنوں پر اس کے گہرے زخم موجود ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اس حملے میں 4 کلسٹر میزائل استعمال کیے گئے جن کے نتیجے میں 20 سے زائد ایرانی شہری شہید ہوئے۔

ایرانی ترجمان نے مزید بتایا کہ ان کلسٹر میزائلوں میں تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار سے زائد باریک اور مہلک دھاتی ٹکڑے (Tungsten Fragments) موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے یہ پری ایس ایم (PrSM) میزائل پہلی بار لامرد کے شہری علاقے میں استعمال کیے، جس کے نتیجے میں 180 سے زائد ایرانی شہری شدید زخمی ہوئے۔

اسماعیل بقائی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود متعدد بچے اور بالغ افراد مستقل معذوری اور شدید جسمانی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ کئی معصوم بچوں کے جسموں میں ٹنگسٹن کے باریک ذرات اب بھی موجود ہیں جنہیں طبی لحاظ سے نکالنا ممکن نہیں ہو سکا۔

انہوں نے واضح کیا کہ لامرد کا یہ سانحہ اور سانحے کا شکار ہونے والے شہریوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ایران ہر ایک شہادت، زخمی اور مالی نقصان کی تفصیلی دستاویزات تیار کر رہا ہے تاکہ اس وحشیانہ حملے کے کمانڈروں، ماسٹر مائنڈز اور معاونت فراہم کرنے والے تمام عناصر کو بین الاقوامی فورمز پر قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔