LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی خطے کے ممالک کو امریکا پر بھروسہ کرنے پر سنگین نتائج کی وارننگ ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا عمرہ زائرین کی سلامتی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے: سعودیہ سعودی مفتی اعظم کی حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت صدر نے چیف جسٹس آف پاکستان کو بیرون ملک دوروں کی منظوری دیدی شرجیل میمن کا پاک فوج کے تربیتی طیارے کو حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار ملتان میں گندم خوردبرد کیس میں پاسکو کے افسران سمیت 6 ملزمان گرفتار حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کردیا خیبر پختونخوا میں ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے: علی محمد خان عمان کے وزیر خارجہ پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کریں گے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت تھی: مصطفیٰ کمال سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بدعنوانی، نیب کراچی نے تحقیقات شروع کردیں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد جاری رکھیں گے، برطانوی وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ ہاؤس پہنچ گئے، سیاسی سوال کا جواب دینے سے گریز پاکستان روس تعلقات میں نئے باب کا آغاز، روسی وزیر داخلہ پاکستان پہنچ گئے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس آج طلب کر لیا

روس سے تیل کی رسد بڑھنے کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں قیمتیں کم

Web Desk

12 October 2026

عالمی منڈی میں روس کی جانب سے خام تیل کی رسد (Supply) میں اضافے کی توقعات اور سفارتی پیش رفت کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں یہ گراوٹ ان خبروں کے بعد دیکھی گئی ہے جن کے مطابق روسی تیل کی عالمی مارکیٹ میں فراہمی کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں بین الاقوامی معیار کے ‘برینٹ خام تیل’ (Brent Crude) کی قیمت میں 1 ڈالر 37 سینٹ یعنی 1.31 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 103 ڈالر 35 سینٹ فی بیرل پر سطح پر آ گئی۔

دوسری جانب امریکی خام تیل ‘ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ’ (WTI) کی قیمتوں میں بھی مندی کا رجحان رہا۔ امریکی خام تیل کی قیمت 1 ڈالر 30 سینٹ یعنی 1.42 فیصد کی کمی کے بعد 90 ڈالر 55 سینٹ فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق روسی ڈیزل اور خام تیل کی برآمدات سے متعلق سامنے آنے والے اعلانات کے بعد آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر انرجی مارکیٹ کا دباؤ مزید کم ہونے کا امکان ہے۔