LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
چیف جسٹس پاکستان کی بار نمائندگان سے مشاورتی نشست، ڈیجیٹل عدالتی اصلاحات پر بریفنگ حافظ نعیم الرحمان کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان ٹرمپ پھر محروم، امن کا نوبیل انعام جنوبی افریقا کی خاتون وکیل کے نام مکہ معاہدہ خطے میں استحکام کی ضمانت، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں: نیویارک ٹائمز بچوں کے خون سے سودا کرنے والوں سے کیا مذاکرات کریں: دانیال چودھری پاکستان اور ویٹیکن کا بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ پر اتفاق ماہ ستمبر 2026 کے دوران ملک میں 5 ہزار 241 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ سہیل آفریدی کا شارٹ مارچ دہشتگرد تنظیموں کے حق میں ہے: عظمیٰ بخاری ہر مصیبت برداشت کرنے کو تیار، اصولوں پر سمجھوتا نہیں ہوگا: سلمان اکرم راجہ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹی 20 میچ آج کھیلا جائے گا علیمہ خان کیخلاف کیس کا فیصلہ پھر مؤخر، سہیل آفریدی کی درخواست پر سماعت ملتوی پاکستان اور بحرین کا تجارت، توانائی اور زراعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق مریم نواز کا پنجاب کے ہر ضلع میں پی ایچ اے قائم کرنے کا فیصلہ

فرانس میں تعلیمی نظام کی ناقص صورتحال کیخلاف طلبہ کا ملک گیر احتجاج تیسرے ہفتے داخل

Web Desk

9 October 2026

فرانس میں ناقص تعلیمی نظام اور تعلیمی اصلاحات کی عدم توجہی کے خلاف طلبہ اور اساتذہ کی ملک گیر تحریک تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق حالیہ مظاہروں میں ملک بھر سے 71 ہزار 500 سے زائد افراد نے شرکت کی، جن میں سے صرف دارالحکومت پیرس میں 24 ہزار 500 سے زائد مظاہرین سڑکوں پر نکلے۔

طلبہ اور تعلیمی یونینز بہتر تعلیمی سہولیات، کلاس رومز میں طلبہ کی تعداد میں کمی اور نئے اساتذہ کی فوری بھرتیاں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، مظاہروں کے دوران متعدد شہروں میں پرتشدد واقعات بھی پیش آئے؛ بورڈو میں مشتعل افراد نے پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کی کوشش کی، جبکہ سینٹ ایٹیان کے ایک اسکول میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ پیرس سمیت کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ حکومت نے اضافی اساتذہ کی تعیناتی اور اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے، جسے طلبہ رہنماؤں نے ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ملک گیر احتجاج فرانس میں آئندہ صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل شدید سیاسی تقسیم کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔