LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج کا پہلا ٹریڈنگ سیشن شدید مندی کا شکار آج تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا اعلان کیا جائے گا: وزیراعظم صدر مملکت نے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کے دورۂ روس کی منظوری دیدی چیئرمین پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اسلم آر خان انتقال کرگئے نائجر کے ہوئی اڈے پر شدت پسندوں کا حملہ، 35 افراد ہلاک پاسپورٹ کے اجراء کو مکمل طور پر ای پاسپورٹ پر منتقل کرنے کا فیصلہ گورنر پنجاب کی پی پی پارلیمنٹیرینز سے ملاقات، عوامی مسائل پر آواز اٹھانے کی ہدایت سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے: پاکستان خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ

“ہم پر کوئی حکم نہیں چلے گا، وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں”: کیوبا کے صدر کا ٹرمپ کے بیان پر در عمل

Web Desk

11 January 2026

کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کیوبا سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا ایک خودمختار ملک ہے اور اسے کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ کیا کرنا ہے۔

صدر کینیل نے کہا کہ کیوبا نے کبھی حملہ نہیں کیا، بلکہ گزشتہ 66 سال سے امریکی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا دھمکیاں نہیں دیتا لیکن ملک کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیوبا کی معاشی مشکلات 60 سال سے جاری امریکی پابندیوں کی وجہ سے ہیں اور امریکہ اب انہی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔

کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے کہا کہ کیوبا نے دی گئی سیکیورٹی خدمات کا کبھی معاوضہ نہیں لیا اور امریکی بلیک میلنگ یا فوجی جبر کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کسی بھی ایندھن برآمد کرنے والے ملک سے ایندھن خریدنے کا حق رکھتا ہے اور امریکی رویہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔