LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا

Web Desk

14 November 2025

 

وفاقی وزیرِ خزانہ نے سینیٹ میں مختلف طبقات کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا۔وزیرِ خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق بینکوں نے سب سے زیادہ 1127 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔پٹرولیم سیکٹر نے 1121 ارب روپے جبکہ پاور سیکٹر نے 858 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔ہول سیلرز نے 693 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 498 ارب روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس آمدن 11 ہزار 747 ارب روپے حاصل کی۔
مزید تفصیلات کے مطابق5794 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہوئے۔3901 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل کیے گئے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 767 ارب روپے جمع ہوئے۔
جبکہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1285 ارب روپے وصول کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ اعدادوشمار ملکی معاشی سرگرمیوں اور فیڈرل ریونیو کے مختلف ذرائع کی واضح عکاسی کرتے ہیں