LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع افغان طلبہ سے یکجہتی محبت سے زیادہ سیاسی رجحانات کی عکاس ہے:خواجہ آصف پی ٹی آئی کا مقصد احتجاج نہیں ملک میں انارکی پیدا کرنا ہے: طلال چودھری کراچی میں فلیٹ سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد ایڈمرل نوید اشرف کا یونٹس اور کریکس ایریا کا دورہ، سی سپارک مشق کا جائزہ لیا پنجاب میں کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کیا جائے گا، عظمیٰ بخاری اسلام آباد: پمز اسپتال میں 30 ستمبر تک ہائی الرٹ، عملے کی چھٹیاں محدود لانگ مارچ میں سرکاری وسائل کا بالکل استعمال نہیں کیا جائے گا: بیرسٹر گوہر احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو یومیہ 120 ارب کا نقصان ہوگا: وفاقی وزیر خزانہ ٹرمپ کا ایران پر جلد بڑے فیصلے کا اعلان، تباہی یا معاہدے کے آپشنز زیرِغور

مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا

Web Desk

14 November 2025

 

وفاقی وزیرِ خزانہ نے سینیٹ میں مختلف طبقات کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا۔وزیرِ خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق بینکوں نے سب سے زیادہ 1127 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔پٹرولیم سیکٹر نے 1121 ارب روپے جبکہ پاور سیکٹر نے 858 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔ہول سیلرز نے 693 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 498 ارب روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس آمدن 11 ہزار 747 ارب روپے حاصل کی۔
مزید تفصیلات کے مطابق5794 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہوئے۔3901 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل کیے گئے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 767 ارب روپے جمع ہوئے۔
جبکہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1285 ارب روپے وصول کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ اعدادوشمار ملکی معاشی سرگرمیوں اور فیڈرل ریونیو کے مختلف ذرائع کی واضح عکاسی کرتے ہیں