LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام چینی و امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکا کا تیل کمپنیوں کو مزید 92.5 ملین بیرل خام تیل فراہم کرنے کا اعلان صدر مملکت اور وزیراعظم کی محنت کشوں کے وقار و تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم مزدور منایا جارہا ہے متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کے سفر نہ کرنے کی ہدایت کردی صدر ٹرمپ کا جنگ بندی ختم کرنے اور ایران پر دوبارہ حملوں کا عندیہ امریکی ایوانِ نمائندگان سے ہوم لینڈ سیکیورٹی فنڈنگ بل منظور، شٹ ڈاؤن کے خاتمے کی راہ ہموار

مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا

Web Desk

14 November 2025

 

وفاقی وزیرِ خزانہ نے سینیٹ میں مختلف طبقات کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا۔وزیرِ خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق بینکوں نے سب سے زیادہ 1127 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔پٹرولیم سیکٹر نے 1121 ارب روپے جبکہ پاور سیکٹر نے 858 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔ہول سیلرز نے 693 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 498 ارب روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس آمدن 11 ہزار 747 ارب روپے حاصل کی۔
مزید تفصیلات کے مطابق5794 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہوئے۔3901 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل کیے گئے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 767 ارب روپے جمع ہوئے۔
جبکہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1285 ارب روپے وصول کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ اعدادوشمار ملکی معاشی سرگرمیوں اور فیڈرل ریونیو کے مختلف ذرائع کی واضح عکاسی کرتے ہیں