LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز پر امریکا ایران ثالثی کی نئی کوششیں کی جائیں گی: قطر محمد علی درانی کا بہاولپور اور ہزارہ کو فوری ماڈل صوبے بنانے کا مطالبہ انمول پنکی کیخلاف قتل بالسبب کے مقدمہ میں فرد جرم عائد، ملزمہ کا صحت جرم سے انکار ایران کا جوہری ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی جاری رکھنے کا اعلان فرانس کا 2 ایرانی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان حکومت نے ڈیزل 5 روپے 27 پیسے اور پٹرول 3 روپے 34 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر دھرنے دیں گے: حافظ نعیم الرحمان ریٹیلر سکیم ایپ کی لانچنگ کل، وزیر خزانہ افتتاح کریں گے عمران خان کی صحت سے متعلق فیصلے پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے: اعظم تارڑ پاکستان میں پہلی بار سمندر کے کنارے اعلیٰ معیار کی گیس دریافت سعودی آرامکو کا ایشیائی ممالک کو تیل فراہم کرنے کا نیا منصوبہ آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا اسلام آباد معاہدے پر عمل کرے: قالیباف ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی: ترجمان پاسداران انقلاب جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 80 لاکھ ڈالر خسارے میں رہا

مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا

Web Desk

14 November 2025

 

وفاقی وزیرِ خزانہ نے سینیٹ میں مختلف طبقات کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلی رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں سب سے زیادہ ٹیکس بینکنگ سیکٹر نے ادا کیا۔وزیرِ خزانہ کے تحریری جواب کے مطابق بینکوں نے سب سے زیادہ 1127 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔پٹرولیم سیکٹر نے 1121 ارب روپے جبکہ پاور سیکٹر نے 858 ارب روپے ٹیکس جمع کرایا۔ہول سیلرز نے 693 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا۔
تنخواہ دار طبقے نے مجموعی طور پر 498 ارب روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 میں مجموعی ٹیکس آمدن 11 ہزار 747 ارب روپے حاصل کی۔
مزید تفصیلات کے مطابق5794 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہوئے۔3901 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں حاصل کیے گئے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے تحت 767 ارب روپے جمع ہوئے۔
جبکہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 1285 ارب روپے وصول کیے گئے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ اعدادوشمار ملکی معاشی سرگرمیوں اور فیڈرل ریونیو کے مختلف ذرائع کی واضح عکاسی کرتے ہیں