LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسمبلیاں جب چاہیں گی دو تہائی اکثریت سے نئے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر تارڑ روس کی یوکرین کو تنازع کے حل کیلئے ٹھوس مذاکرات کی پیشکش جوابی کارروائی میں امریکی فوج کے ایم کیو نائن ڈرون کو نشانہ بنایا گیا: پاسداران انقلاب ایرانی پارلیمنٹ سپیکر کی شہریوں سے پٹرول کی کھپت کم کرنے کی اپیل بشارالاسد دور کے خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم سوالات حل ہوگئے: آئی اے ای اے جرمنی کا لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں روس کے ملوث ہونے کا الزام روس کے یوکرین میں فضائی حملے، ایک بھارتی سمیت 12 افراد ہلاک، متعدد زخمی ایران کے جوابی حملے، اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکا کا ایران پر پھر حملہ، شادی کی تقریب پر بمباری، 4 افراد شہید، 30 سے زائد زخمی محفوظ ڈیجیٹل ماحول ہر بچے کا بنیادی حق، مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے: سارہ احمد ایران پر حملے اردن میں ہمارے فوجی اڈے پر حملوں کا جواب ہیں: صدر ٹرمپ قومی کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں پاکستان ہاؤس لندن میں عشائیہ، محسن نقوی کی بھی شرکت خیبرپختونخوا کے وسائل پر صوبے کا حق، بقایاجات کیلئے عدالت جائینگے: سہیل آفریدی پٹرول ایک روپے 8 پیسے، ڈیزل 51 پیسے فی لٹر مہنگا بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی جا رہی ہیں: عقیل ملک

یوکرین نے امریکی مذاکرات میں 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کر دیا

Web Desk

24 December 2025

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لئے 20 نکاتی امن منصوبے کا مسودہ پیش کر دیا ۔ تاس کے مطابق یوکرینی صدر نے بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ کے دوران اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مسودہ بڑی حد تک یوکرین اور امریکا کے مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے جبکہ کئی اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔سب سے زیادہ متنازعہ دفعات میں زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق تجویز شامل ہے، جو اس وقت مکمل طور پر روسی افواج کے زیر کنٹرول ہے۔ یوکرینی حکومت چاہتی ہے کہ یہ پلانٹ یوکرین اور امریکا مشترکہ طور پر 5050 کی بنیاد پر چلائیں جبکہ امریکی حکومت کے مجوزہ سہ فریقی انتظام میں روس بھی شامل ہے۔

منصوبے میں شامل ایک آپشن کے تحت روسی افواج کو یوکرین کے خارکوف، دنیپروپیٹروسک، سومی اور نکولائیف علاقوں سے انخلا کرنا ہو گا جبکہ روس کے ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزئے اور کھیرسون کے علاقوں میں موجودہ فرنٹ لائنز کے ساتھ جنگ کو منجمد کرنا ہوگا۔اس منصوبے میں یوکرین سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن کے وقت میں 800,000 اہلکاروں کی مسلح فورس کو برقرار رکھے، باوجود اس کے کہ زیلنسکی نے پہلے تسلیم کیا تھا کہ یوکرینی حکومت درحقیقت مغربی فنانسنگ کے بغیر اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

زیلنسکی نے امریکا ، نیٹو اور یورپی ریاستوں سے “آرٹیکل 5 جیسی” حفاظتی ضمانتوں کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں مغربی فوجی ردعمل کا وعدہ بھی شامل ہے ۔اس تجویز کے تحت، یوکرین غیر جوہری حیثیت سے اتفاق کرے گا لیکن اسے یورپی یونین کی رکنیت میں تیزی لانے اور 800 بلین ڈالر تک کے بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے فنڈز کی توقع ہے۔زیلنسکی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد جلد از جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔ روسی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یوکرین کی حکومت کا جائز ہونا ضروری ہے تاہم یوکرینی صدر کے منصوبے کے مطابق تمام فریقین کے فریم ورک پر متفق ہونے کے بعد ہی مکمل جنگ بندی عمل میں آئے گی۔