LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ نومبر تک کیلیے توانائی ضروریات کا انتظام کر لیا، وزیرخزانہ اسرائیل; عرب دنیا کے صحافیوں کی جاسوسی کا سب سے خطرناک اسکینڈل سامنے آ گیا سان فرانسسکو؛ مغربی ساحل پر پاک-امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا کامیاب انعقاد مصری صدر کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا اعلان، آئین میں ترمیم کی افواہیں مسترد امریکا: خریدے گئے پرانے سامان سے دوسری جنگِ عظیم کے بم برآمد مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے فرانسیسی میئر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جدہ ائیرپورٹ کو 45 منٹ کی بندش کے بعد پروازوں کیلئے کھول دیا گیا بھارتی شہر کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ مچنے سے 17 افراد ہلاک تقریباً 15لاکھ پاکستانی بچوں نے ایک سال کے دوران انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی کاسامنا کیا، یونیسیف سعودی عرب میں دہشتگردی میں ملوث 5 سعودی شہریوں کو سزائے موت دیدی گئی امریکا اور ایران کی جنگ سے عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر پاسداران انقلاب کی امریکی طاقتور ترین غیر جوہری بم ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے نام پر شدید تنقید مشی گن میں سینٹ نشست پر انتخابات: غزہ جنگ کے باعث یہودی، مسلم برادری میں شدید اختلافات

یوکرین نے امریکی مذاکرات میں 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کر دیا

Web Desk

24 December 2025

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لئے 20 نکاتی امن منصوبے کا مسودہ پیش کر دیا ۔ تاس کے مطابق یوکرینی صدر نے بدھ کو صحافیوں کو بریفنگ کے دوران اس منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مسودہ بڑی حد تک یوکرین اور امریکا کے مشترکہ موقف کی عکاسی کرتا ہے جبکہ کئی اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔سب سے زیادہ متنازعہ دفعات میں زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق تجویز شامل ہے، جو اس وقت مکمل طور پر روسی افواج کے زیر کنٹرول ہے۔ یوکرینی حکومت چاہتی ہے کہ یہ پلانٹ یوکرین اور امریکا مشترکہ طور پر 50–50 کی بنیاد پر چلائیں جبکہ امریکی حکومت کے مجوزہ سہ فریقی انتظام میں روس بھی شامل ہے۔

منصوبے میں شامل ایک آپشن کے تحت روسی افواج کو یوکرین کے خارکوف، دنیپروپیٹروسک، سومی اور نکولائیف علاقوں سے انخلا کرنا ہو گا جبکہ روس کے ڈونیٹسک، لوگانسک، زاپوروزئے اور کھیرسون کے علاقوں میں موجودہ فرنٹ لائنز کے ساتھ جنگ کو منجمد کرنا ہوگا۔اس منصوبے میں یوکرین سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن کے وقت میں 800,000 اہلکاروں کی مسلح فورس کو برقرار رکھے، باوجود اس کے کہ زیلنسکی نے پہلے تسلیم کیا تھا کہ یوکرینی حکومت درحقیقت مغربی فنانسنگ کے بغیر اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

زیلنسکی نے امریکا ، نیٹو اور یورپی ریاستوں سے “آرٹیکل 5 جیسی” حفاظتی ضمانتوں کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں مغربی فوجی ردعمل کا وعدہ بھی شامل ہے ۔اس تجویز کے تحت، یوکرین غیر جوہری حیثیت سے اتفاق کرے گا لیکن اسے یورپی یونین کی رکنیت میں تیزی لانے اور 800 بلین ڈالر تک کے بڑے پیمانے پر تعمیر نو کے فنڈز کی توقع ہے۔زیلنسکی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد جلد از جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔ روسی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے یوکرین کی حکومت کا جائز ہونا ضروری ہے تاہم یوکرینی صدر کے منصوبے کے مطابق تمام فریقین کے فریم ورک پر متفق ہونے کے بعد ہی مکمل جنگ بندی عمل میں آئے گی۔